پمز میں 14 نومولود بچوں کی اموات: انتظامی ڈھانچہ، اضافی چارجز اور انکوائری کمیٹی سوالات کی زد میں

newsdesk
14 Min Read
پمز اسلام آباد میں 14 نومولود بچوں کی اموات کے بعد انتظامی ڈھانچے، تکنیکی نگرانی اور انکوائری کمیٹی کی ساخت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد (لیڈی رپورٹر، علینہ جنت): پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ (ایم سی ایچ)/گائنی وارڈ میں 14 نومولود بچوں کی المناک اموات کے بعد اسپتال کے انتظامی ڈھانچے، اختیارات کی تقسیم، متعدد اضافی چارجز، غیر متعلقہ انتظامی و تکنیکی عہدوں پر تعیناتیوں اور واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم انکوائری کمیٹی کی ساخت پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس سانحے نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا اسے محض ایک الگ تھلگ تکنیکی یا آپریشنل ناکامی سمجھا جائے، یا پمز میں نگرانی، مرمت، حفاظت اور فیصلہ سازی کی پوری انتظامی و تکنیکی چین آف کمانڈ کا جائزہ لیا جائے تاکہ ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔

پمز، جو ملک کے بڑے قومی تدریسی اسپتالوں میں شمار ہوتا ہے، کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم انتظامی اختیارات ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی سطح پر مرکوز ہونے جبکہ دیگر انتظامی افسران کے اختیارات محدود ہونے سے متعلق خدشات پائے جاتے ہیں۔ حکام اور ذرائع نے سوال اٹھایا ہے کہ ایسے نظام میں کسی بڑے واقعے کی ذمہ داری کو صرف ماتحت ملازم تک محدود رکھنا کس حد تک درست ہو گا، جب تک نگرانی اور انتظامی اختیار رکھنے والے افسران کے کردار کا بھی جائزہ نہ لیا جائے۔

ذرائع کے مطابق پمز میں متعدد افسران اپنے اصل عہدوں کے ساتھ اضافی ذمہ داریاں بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان میں مبینہ طور پر ڈاکٹر شرجیل، ڈاکٹر سعدیہ، ڈاکٹر نوشیلہ، ڈاکٹر زرل عین، ڈاکٹر رانا فاطمہ، ڈاکٹر ذوالفقان، عاطف، تشام الحق، قمر جاوید گجر، رانا نعیم، لیاقت اور ڈاکٹر عنیزہ جلیل شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شرجیل، جن کا اصل عہدہ میڈیکل آفیسر ہے، کو کوآرڈینیٹر ایمرجنسی سمیت کئی اہم انتظامی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا ایک میڈیکل آفیسر کو ایمرجنسی سے متعلق ذمہ داریوں کے ساتھ متعدد انتظامی امور سونپنا ان کی بنیادی طبی ذمہ داریوں اور انتظامی جوابدہی کو متاثر کرتا ہے یا نہیں۔

ڈاکٹر سعدیہ، جو ڈپٹی میڈیکل آفیسر ہیں، مبینہ طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر ایم سی ایچ/گائنی کا اضافی چارج رکھتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ ڈاکٹر شرجیل کی اہلیہ ہیں۔ دونوں کی اہم انتظامی عہدوں پر بیک وقت موجودگی کے باعث میرٹ، شفافیت اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سوالات اٹھے ہیں، جن کی مجاز حکام سے وضاحت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر نوشیلہ کا اصل شعبہ گائنی ہے، تاہم وہ ڈائریکٹر/ایڈمنسٹریٹر کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ گائنی یونٹ ون سے متعلق شکایات کے حوالے سے بھی سوالات سامنے آئے ہیں اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں اس شعبے سے متعلق سابقہ شکایات، واقعات اور انکوائری ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے۔

ڈاکٹر زرل عین، جن کا اصل شعبہ میڈیسن بتایا جاتا ہے، مبینہ طور پر ڈائریکٹر پروکیورمنٹ اور ڈائریکٹر کچن کے اضافی چارجز سنبھالے ہوئے ہیں۔ ذرائع نے سوال اٹھایا ہے کہ انتظامی، مالی، سپلائی اور آپریشنل نوعیت کی حساس ذمہ داریوں والے پروکیورمنٹ اور کچن جیسے شعبے متعلقہ ماہرین کے بجائے ایک ڈاکٹر کو کیوں دیے گئے۔

ڈاکٹر رانا فاطمہ، جن کا تعلق میڈیکل ڈیپارٹمنٹ سے ہے، مبینہ طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر ہاؤس کیپنگ کا اضافی چارج رکھتی ہیں۔ چونکہ ہاؤس کیپنگ کا براہ راست تعلق صفائی، انفیکشن کنٹرول اور مریضوں کی حفاظت سے ہے، اس لیے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا ایسی ذمہ داریاں متعلقہ پیشہ ورانہ مہارت اور انتظامی تجربے کی بنیاد پر دی جا رہی ہیں یا نہیں۔

ڈاکٹر ذوالفقان، جن کا اصل شعبہ مبینہ طور پر میڈیسن ہے، ڈائریکٹر آؤٹ ڈور کا چارج رکھتے ہیں۔ پمز کی عمارتوں، تعمیراتی منصوبوں اور سول ورکس سے متعلق ذمہ داریوں پر بھی سوالات سامنے آئے ہیں کہ آیا ایسے تکنیکی امور کی نگرانی اہل سول انجینئرز اور تکنیکی ماہرین کر رہے ہیں یا غیر متعلقہ پیشہ ورانہ پس منظر رکھنے والے افسران۔

عاطف مبینہ طور پر الیکٹریکل ڈیپارٹمنٹ کے انچارج ہیں۔ نومولود بچوں کی اموات کے بعد اسپتال کے برقی نظام، اے سی یونٹس، کمپریسرز اور دیگر حساس تنصیبات کی مرمت، معائنہ اور حفاظت کی ذمہ داریوں سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

تشام الحق، جن کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ سول میں تین سالہ ڈی اے ای کی اہلیت رکھتے ہیں، گریڈ 17 میں سول ڈیپارٹمنٹ کے انچارج کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ پورے سول ڈیپارٹمنٹ کی سربراہی کے لیے پیشہ ورانہ قابلیت اور متعلقہ سروس رولز پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ایک سینئر افسر کی ہدایات پہلے نظر انداز کی گئیں، جس کی باضابطہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

قمر جاوید گجر، جن کا اصل شعبہ مبینہ طور پر میڈیکل آپریشن تھیٹر ہے، کو مکینیکل، لانڈری اور دیگر تکنیکی شعبوں سے متعلق اضافی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک میڈیکل ٹیکنیشن کو کئی حساس تکنیکی امور سونپنے کی بنیاد پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے تقرر یا اختیار پر سوال اٹھانے والے ملازمین کے خلاف مبینہ اقدامات کا بھی آزادانہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

رانا نعیم، جن کا اصل شعبہ نرسنگ ہے، مبینہ طور پر پمز میں لا آفیسر کے طور پر اضافی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ چونکہ قانونی امور خصوصی تعلیمی قابلیت اور پیشہ ورانہ تجربے کے متقاضی ہوتے ہیں، اس تقرری کی اہلیت اور سروس رولز سے متعلق سوالات سامنے آئے ہیں۔

لیاقت، جن کا اصل شعبہ نرسنگ بتایا جاتا ہے، مبینہ طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر او اینڈ ایس پی کا اضافی چارج رکھتے ہیں۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ نرسنگ شعبے کے افسر کو اس کے پیشہ ورانہ پس منظر کے مطابق استعمال کرنے کے بجائے ایک دوسرے انتظامی شعبے کی ذمہ داری کیوں دی گئی۔

ڈاکٹر عنیزہ جلیل، جن کا اصل شعبہ میڈیسن ہے، مبینہ طور پر متعدد اہم انتظامی امور انجام دے رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک ڈاکٹر کو طبی فرائض کے ساتھ کئی انتظامی ذمہ داریاں دینے سے طبی دستیابی اور مؤثر انتظامی نگرانی دونوں پر سوال اٹھتے ہیں۔

حکام اور ملازمین نے پمز کے حساس شعبوں، جن میں سول، الیکٹریکل، مکینیکل، لانڈری، ہاؤس کیپنگ، پروکیورمنٹ، کچن، بلڈنگ مینٹیننس اور فائر سیفٹی شامل ہیں، کے انتظام کا جامع جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ذمہ دار افراد متعلقہ قابلیت، پیشہ ورانہ تجربہ اور تکنیکی مہارت رکھتے ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اضافی چارجز پر حد سے زیادہ انحصار اصل شعبوں اور حساس تکنیکی امور کی پیشہ ورانہ نگرانی دونوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

14 نومولود بچوں کی اموات کے بعد وارڈ سے منسلک مرمت اور حفاظتی نظام کی ذمہ داریوں پر بھی اہم سوالات اٹھے ہیں۔ انکوائری میں یہ تعین ضروری قرار دیا جا رہا ہے کہ اے سی اور کمپریسر سسٹمز کی مرمت کا ذمہ دار کون تھا، برقی اور مکینیکل سیفٹی کس کے ذمے تھی، فائر سیفٹی اور ایمرجنسی سسٹمز کا معائنہ کس نے کیا، متعلقہ تکنیکی شعبوں کا سرکاری انچارج کون تھا، وارڈ اور اس کے تکنیکی نظام کی نگرانی کس نے کی، اور فیصلہ سازی و نگرانی کا حتمی اختیار کس کے پاس تھا۔

یہ بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اگر ماضی میں کوئی شکایات، مرمت سے متعلق خدشات یا حفاظتی وارننگز رپورٹ ہوئیں تو ان پر کیا کارروائی کی گئی۔ ذرائع اور ملازمین کا مؤقف ہے کہ اگر غفلت، ناقص نگرانی، خراب مرمت یا انتظامی ناکامی ثابت ہو تو ذمہ داری صرف ماتحت ملازم تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ پوری چین آف کمانڈ اور فیصلہ سازی کے عمل کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب سانحے کے بعد قائم انکوائری کمیٹی کی ساخت بھی سوالات کی زد میں آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی میں ڈاکٹر عمر فاروق، ڈاکٹر شرجیل، ڈاکٹر نوشیلہ اور ڈاکٹر سعدیہ شامل ہیں۔ کمیٹی ارکان کی پمز کے اندر انتظامی ذمہ داریوں، اضافی چارجز اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے انتظامی تعلقات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری آگے بڑھنے سے پہلے ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر شرجیل اور ڈاکٹر سعدیہ، جو میاں بیوی ہیں، کی ایک ہی انکوائری کمیٹی میں شمولیت نے بھی تحقیقات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ حیثیت کے حوالے سے سوالات پیدا کیے ہیں، خصوصاً ان کی پمز میں مبینہ انتظامی ذمہ داریوں کے تناظر میں۔ ذرائع نے زور دیا ہے کہ کسی فرد کو غیر جانبدار تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے قصوروار قرار نہیں دیا جانا چاہیے، تاہم کمیٹی کی ساخت ایسی ہونی چاہیے کہ اس کی آزادی یا ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ پر کوئی معقول شبہ باقی نہ رہے۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عمر فاروق کو انکوائری کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ وہ شعبہ میڈیسن سے وابستہ پروفیسر ہیں اور ہاؤس آفیسرز کی روٹیشن، پوسٹنگز اور متعلقہ انتظامی امور میں بھی شامل ہیں۔ اس بنا پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اسی انتظامی نظام سے وابستہ افسر کو اس نظام سے متعلق معاملات کی انکوائری کی سربراہی کرنی چاہیے۔ ذرائع نے کمیٹی کے تمام ارکان اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے انتظامی روابط، ذمہ داریوں، اضافی چارجز اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کے جائزے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پمز کا شمار ملک کے اہم طبی اداروں میں ہوتا ہے۔ پمز کے ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈکس اور دیگر عملہ اوجڑی کیمپ سانحہ، 2005 کے زلزلے اور مارگلہ ہلز طیارہ حادثے سمیت بڑی قومی ہنگامی صورتحال میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ موجودہ صورتحال نے ملازمین اور مبصرین میں تشویش پیدا کی ہے کہ اتنے اہم قومی ریکارڈ رکھنے والا ادارہ انتظامی کمزوریوں، اختیارات کی غیر واضح تقسیم، اضافی چارجز اور پیشہ ورانہ اہلیت سے متعلق بار بار سوالات کا سامنا کیوں کر رہا ہے۔

ملازمین اور متعلقہ حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پمز کو افراد یا اضافی چارجز پر غیر معمولی انحصار کے بجائے میرٹ، پیشہ ورانہ قابلیت، متعلقہ تجربے، واضح اختیارات اور ادارہ جاتی احتساب کے تحت چلایا جائے۔

مطالبات میں 14 نومولود بچوں کی اموات کی آزاد اور شفاف تحقیقات، پوری چین آف کمانڈ میں ذمہ داری کا تعین، تمام اضافی چارجز اور متعلقہ پیشہ ورانہ دائرہ کار سے باہر تقرریوں کا جامع جائزہ، سول، الیکٹریکل، مکینیکل، فائر سیفٹی اور دیگر تکنیکی شعبوں کو اہل ماہرین کے سپرد کرنا، انکوائری کمیٹی کو مکمل طور پر آزاد اور غیر جانبدار بنانا، کمیٹی ارکان کے انتظامی تعلقات اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کا جائزہ، ایم سی ایچ/گائنی ڈیپارٹمنٹ اور ایسے دیگر شعبوں کا آزادانہ جائزہ جہاں پہلے شکایات رپورٹ ہو چکی ہیں، اور اسپتال کے الیکٹریکل، مکینیکل، اے سی، کمپریسر، فائر سیفٹی اور مینٹیننس سسٹمز کا جامع تکنیکی آڈٹ شامل ہیں۔

یوں 14 نومولود بچوں کی اموات کا سانحہ صرف فوری واقعے کے حالات ہی نہیں بلکہ پمز کے وسیع تر انتظامی، تکنیکی، نگران اور احتسابی نظام کو بھی سخت جانچ پڑتال کے دائرے میں لے آیا ہے۔

Share This Article