پاکستان نے جاپان کو ہرا کر ورلڈ کپ میں 16 سالہ انتظار ختم کر دیا

newsdesk
6 Min Read
پاکستان نے جاپان کو 3-4 سے شکست دے کر ہاکی ورلڈ کپ میں 16 سال بعد کامیابی حاصل کی۔

ایمسٹیلوین/اسلام آباد: پاکستان نے ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈ کپ میں 16 سال بعد کامیابی حاصل کرتے ہوئے ویگنر اسٹیڈیم میں 9ویں سے 16ویں پوزیشن کے کلاسیفکیشن میچ میں جاپان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 3-4 سے شکست دے دی۔ مرکزی راؤنڈ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد یہ کامیابی گرین شرٹس کے لیے ایک اہم حوصلہ افزا نتیجہ ثابت ہوئی۔

میچ کا آغاز پاکستان کے لیے مشکل رہا۔ جاپان نے پہلے کوارٹر میں ہی ہیوتا یامادا اور کائتو تاناکا کے ذریعے دو گول کر کے برتری حاصل کر لی۔ تاہم گرین شرٹس نے ہمت نہیں ہاری اور بتدریج میچ میں واپسی کی۔

دوسرے کوارٹر میں رانا وحید اشرف نے گول کر کے جاپان کی برتری 1-2 کر دی، اور وقفے تک پاکستان میچ میں واپس آنے کی امید برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ تیسرے کوارٹر میں پاکستان نے شاندار کم بیک کیا۔ اشرف نے ایک اور گول اسکور کیا، جس کے بعد محمد حماد الدین نے گیند جال میں پہنچا کر گرین شرٹس کو برتری دلا دی۔

جاپان نے فوری جواب دیتے ہوئے کوجی یاماساکی کے گول کے ذریعے مقابلہ 3-3 سے برابر کر دیا، جس کے بعد میچ کا اختتام انتہائی سنسنی خیز ہو گیا۔ پاکستان نے 40ویں منٹ میں حنان شاہد کے گول کی بدولت دوبارہ برتری حاصل کی۔ اس کے بعد دونوں ٹیمیں مزید گول نہ کر سکیں اور پاکستان نے 3-4 سے یادگار کامیابی اپنے نام کر لی۔

یہ کامیابی پاکستان کی ہاکی ورلڈ کپ میں 2010 کے بعد پہلی فتح ہے۔ 2010 کے ٹورنامنٹ میں پاکستان نے اسپین کو 1-2 سے شکست دی تھی۔ پاکستان 2014 کے ورلڈ کپ میں شریک نہیں ہو سکا تھا، جبکہ 2018 کے ایڈیشن میں بھی ٹیم کوئی میچ جیتنے میں ناکام رہی تھی۔ اس پس منظر میں جاپان کے خلاف یہ فتح ملک کے زوال پذیر قومی کھیل کے لیے ایک اہم لمحہ قرار دی جا رہی ہے۔

یہ نتیجہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان ہاکی فیڈریشن اپنے ایڈہاک صدر محی الدین احمد وانی کی قیادت میں کھیل کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

محی الدین احمد وانی کو اس بات کا کریڈٹ دیا جا رہا ہے کہ انہوں نے گراس روٹ سطح پر ہاکی کی بحالی اور فیڈریشن کے انتظامی ڈھانچے میں بہتری پر زیادہ توجہ دی ہے۔ ان کی قیادت میں پی ایچ ایف نے صوبائی تعلیمی بورڈز کے تعاون سے تقریباً 60 سے 70 ہزار نوجوانوں کو ہاکی میں لانے کے منصوبوں کا اعلان کیا، جبکہ انڈر 14 اور انڈر 16 سطح پر اسکولوں اور کالجوں کے لیے مفت ہاکی کٹس فراہم کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

وانی نے فیڈریشن میں انتظامی اور پیشہ ورانہ اصلاحات پر بھی زور دیا ہے۔ پی ایچ ایف نے گورننس مینجمنٹ اور پروفیشنل ڈیولپمنٹ کی الگ الگ کمیٹیوں کا اعلان کیا، جن میں مالیاتی انتظام، وسائل کے حصول، اسپورٹس ڈیولپمنٹ، کوچنگ، اسپورٹس میڈیسن اور سابق اولمپیئنز کے تجربے سمیت مختلف شعبوں کے ماہرین کو شامل کیا گیا ہے۔

ان کی کوششوں کا مرکز صرف سینئر قومی ٹیم نہیں بلکہ روایتی مراکز سے باہر ہاکی کو فروغ دینا بھی ہے۔ وانی نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، بلوچستان اور سندھ سمیت مختلف علاقوں کی اہمیت پر زور دیا ہے اور اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کھیل کو ترقی دینے کی بات کی ہے۔

اس تناظر میں جاپان کے خلاف تازہ کامیابی بحالی کے عمل کے لیے حوصلہ افزا نتیجہ فراہم کرتی ہے، اگرچہ پاکستان کو بین الاقوامی ہاکی کی اعلیٰ سطح پر واپس لانے کے لیے ابھی بہت کام باقی ہے۔

پاکستان ٹائٹل کی دوڑ سے پہلے ہی باہر ہو چکا تھا۔ ابتدائی مرحلے میں ٹیم کو انگلینڈ اور بھارت کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ویلز کے ساتھ میچ 3-3 سے برابر رہا۔ اسی وجہ سے پاکستان نے 9ویں سے 16ویں پوزیشن کے لیے کلاسیفکیشن راؤنڈ میں جگہ بنائی۔

ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی میں ناکامی کے باوجود جاپان کے خلاف دکھایا گیا جذبہ کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافہ کرے گا، جب کہ ٹیم اپنا ورلڈ کپ سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان وہ ملک ہے جو ہاکی ورلڈ کپ چار بار جیت چکا ہے، اس لیے ورلڈ کپ میں 16 سال تک فتح سے محرومی پاکستان ہاکی کے زوال کی تکلیف دہ یاد دہانی رہی ہے۔ جاپان کے خلاف جیت کھیل کو درپیش مسائل کا مکمل حل نہیں، لیکن یہ اس بات کی خوش آئند علامت ضرور ہے کہ دباؤ کی صورت میں قومی ٹیم اب بھی واپسی کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اب اصل امتحان یہ ہے کہ اس کامیابی کو پائیدار بحالی کے آغاز میں کیسے بدلا جائے۔ مضبوط گراس روٹ پروگرامز، بہتر انتظامیہ، تربیتی سہولیات میں بہتری اور کھلاڑیوں کی مسلسل معاونت کے ذریعے پاکستان دنیا کی نمایاں ہاکی اقوام میں اپنا مقام دوبارہ حاصل کرنے کی امید رکھے گا۔

Share This Article