اسلام آباد: پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) نے حق رسائی معلومات ایکٹ 2017 کی دفعہ 20(1)(f) کے تحت راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے چیف انجینئر عتیق الرحمٰن پر 30 دن کی تنخواہ کے برابر جرمانہ عائد کر دیا۔
کمیشن نے یہ کارروائی اس بنا پر کی کہ ری جوائنڈر اور شوکاز نوٹس کا تحریری جواب مسلسل جمع نہیں کرایا گیا جبکہ متعلقہ چیف انجینئر کمیشن کے روبرو پیش بھی نہیں ہوئے۔
کمیشن کے حکم نامے کے مطابق 7 جولائی 2026 کو ری جوائنڈر کا جواب داخل کرنے کے لیے کمیشن کے سامنے کوئی پیش نہیں ہوا۔ اس کے بعد عتیق الرحمٰن کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اور انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ نوٹس کا تحریری جواب اور ری جوائنڈر پر جواب جمع کرائیں۔
28 جولائی 2026 کو عتیق الرحمٰن ذاتی حیثیت میں کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ ان کی درخواست پر انہیں ری جوائنڈر اور شوکاز نوٹس، دونوں کے جوابات داخل کرنے کا موقع دیا گیا۔
تاہم اگلی سماعت پر کمیشن نے نوٹ کیا کہ نہ کوئی تحریری جواب موصول ہوا اور نہ ہی متعلقہ افسر کی جانب سے کوئی کمیشن کے سامنے پیش ہوا۔
کمیشن نے مزید کہا کہ اس کے دفتر نے عتیق الرحمٰن کے سرکاری ٹیلی فون نمبر پر رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم کال مبینہ طور پر موصول نہیں کی گئی۔
حکم نامے میں کمیشن نے قرار دیا کہ شوکاز نوٹس کا جواب جمع نہ کرانا اور کمیشن کے سامنے پیش نہ ہونا غیر ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ کمیشن کے مطابق مسلسل جواب نہ دینے سے ظاہر ہوا کہ چیف انجینئر کی جانب سے کوئی دفاع پیش نہیں کیا گیا، اس لیے حق رسائی معلومات ایکٹ 2017 کی دفعہ 20(1)(f) کے تحت کارروائی کے لیے کافی بنیاد موجود ہے۔
کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ ری جوائنڈر کا جواب جمع کرانے میں تاخیر دانستہ تھی جس سے اپیل کو بروقت نمٹانے کا عمل متاثر ہوا۔ اسی بنیاد پر عتیق الرحمٰن پر 30 دن کی تنخواہ کے برابر جرمانہ عائد کیا گیا۔
پاکستان انفارمیشن کمیشن نے ڈائریکٹر جنرل ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹ ڈپارٹمنٹ، اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ملٹری اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ عتیق الرحمٰن کی تنخواہ سے 30 دن کی تنخواہ کے مساوی رقم منہا کی جائے۔ ان حکام کو آئندہ تاریخ سماعت سے قبل عمل درآمد رپورٹ جمع کرانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
علاوہ ازیں سی ای او راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کو ری جوائنڈر کا تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمیشن نے خبردار کیا کہ اگر جواب جمع نہ کرایا گیا تو اپیل کا فیصلہ قانون کے مطابق کر دیا جائے گا۔
معاملے کی سماعت 2 ستمبر 2026 تک ملتوی کر دی گئی ہے، جب کیس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر ہے۔
