پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کی تمام سرکاری جامعات کو ہدایت کی ہے کہ کمپیوٹنگ پروگرامز میں داخلوں کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے اور موجودہ داخلہ شیڈول کے مطابق اسے جاری رکھا جائے۔
ہائر ایجوکیشن، آرکائیوز اینڈ لائبریریز ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا کی جانب سے یہ ہدایات صوبے کی تمام سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کو جاری کی گئی ہیں۔
یہ پیش رفت ہائر ایجوکیشن کمیشن کی اس ایڈوائزری کے بعد سامنے آئی ہے جس میں نیشنل اسکلز اینڈ کمپیٹنسی ٹیسٹ 2026 کے تحت بعض کمپیوٹنگ پروگرامز میں داخلوں کو عارضی طور پر روکنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔
صوبائی ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مراسلے کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے ایچ ای سی سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی ایڈوائزری پر نظرثانی کرے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ جامعات کو متاثر کرنے والی کوئی بھی ریگولیٹری کارروائی منصفانہ، شفاف اور یکساں نظام کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
محکمے نے واضح کیا ہے کہ صوبائی حکومت اس مرحلے پر متاثرہ کمپیوٹنگ پروگرامز میں داخلے روکنے کی حمایت نہیں کرتی۔ حکومت کے مطابق داخلوں کی بندش سے ان طلبہ کے لیے سنگین مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں جو کمپیوٹنگ کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ داخلوں کو روکنے سے جامعات کی تعلیمی منصوبہ بندی اور طویل المدتی استحکام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی بنا پر جامعات کو ہدایت دی گئی ہے کہ متعلقہ کمپیوٹنگ پروگرامز میں داخلوں کا عمل موجودہ داخلہ سائیکل کے دوران منظور شدہ شیڈول اور رائج قواعد کے مطابق جاری رکھا جائے۔
صوبائی حکومت نے کہا ہے کہ جامعات یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں جب تک مجاز اتھارٹی کی جانب سے مزید ہدایات جاری نہیں کی جاتیں۔
حکومت کے مطابق یہ فیصلہ طلبہ کے تعلیمی مفادات کے تحفظ، اعلیٰ تعلیمی نظام پر عوامی اعتماد برقرار رکھنے، طلبہ کے اندراج پر منفی اثرات سے بچنے اور جامعات کی ساکھ کو نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں کمپیوٹنگ سے متعلق پروگرامز میں داخلہ لینے کے خواہش مند ہزاروں طلبہ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ صوبائی حکومت نے واضح طور پر جامعات کو ہدایت کی ہے کہ اس مرحلے پر داخلوں کا عمل نہ روکا جائے۔
