اسلام آباد: انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے انڈیا اسٹڈی سینٹر نے یومِ استحصال کی ساتویں برسی کے موقع پر ’’5 اگست 2019: حقِ خودارادیت کے لیے جاری جدوجہد‘‘ کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کی نمائندگی کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ وزارتِ خارجہ پاکستان کے ترجمان سفیر طاہر اندرابی مہمانِ اعزاز تھے۔ دیگر مقررین میں کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی اور وکیل و انسانی حقوق کی کارکن بیرسٹر ندا سلام شامل تھیں۔ آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سفیر معین الحق اور بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سفیر خالد محمود نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔
اپنے کلیدی خطاب میں سینیٹر شیری رحمان نے بھارتی قبضے میں رہنے والے کشمیری عوام کو بنیادی انسانی وقار سے محروم رکھنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی زندگی کا ہر شعبہ، جس میں شناخت، ثقافت، مذہب اور جائیداد کی ملکیت شامل ہیں، بھارتی جابرانہ حکمرانی کا نشانہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر زمین یا خطے کا معاملہ نہیں بلکہ کشمیری عوام اور ان کے حقِ خودارادیت کا مسئلہ ہے۔
سفیر طاہر اندرابی نے کشمیر کاز اور کشمیری عوام کے حقوق و وقار کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان قراردادوں میں تنازع کے پُرامن حل کے لیے رائے شماری کی حمایت کی گئی ہے۔ انہوں نے 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کو غیر قانونی اور یکطرفہ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی۔ سفیر اندرابی نے کشمیر کے مسئلے کو ہر دستیاب عالمی اور علاقائی فورم پر اجاگر کرنے کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔
مقررین نے کہا کہ جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے نئی دہلی کے یکطرفہ آئینی اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے منافی ہیں۔ ان کے مطابق بھارت مسلسل جبر، نئے سخت قوانین اور آبادیاتی تبدیلیوں کے ذریعے سرزمین پر اپنے غیر قانونی قبضے کو طول دینے کی کوشش کر سکتا ہے، تاہم وہ کشمیری عوام کے دل و دماغ نہیں جیت سکے گا۔
مقررین نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان اور اس کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہمیشہ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور ان کے جائز مقصد اور جدوجہد کے لیے سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔
