ڈاکٹر رمیش وانکوانی کو کینیڈا میں گلوبل ہندو ایوارڈ 2026 سے نوازا گیا

newsdesk
4 Min Read
کیلگری، البرٹا میں دھنتیرس گالا 2026 کے دوران ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کو گلوبل ہندو ایوارڈ 2026 سے نوازا گیا۔

اسلام آباد/کراچی (4 اگست 2026): پاکستان ہندو کونسل کے سرپرستِ اعلیٰ اور سینئر پارلیمنٹیرین ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کو کینیڈا کے شہر کیلگری، البرٹا میں منعقدہ رنگا رنگ دھنتیرس گالا 2026 کی تقریب میں گلوبل ہندو ایوارڈ 2026 سے نوازا گیا۔ جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ڈاکٹر رمیش وانکوانی واحد پاکستانی شہری ہیں جنہیں اقلیتوں کے حقوق، بین المذاہب ہم آہنگی اور عالمی سطح پر انسانیت کی خدمت کے لیے بے خوف کردار ادا کرنے کے اعتراف میں یہ اعزاز دیا گیا۔

تقریب میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کینیڈا کی سماجی، ثقافتی اور معاشی ترقی میں ہندو برادری کی نمایاں خدمات کو سراہا۔ البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ، اپوزیشن لیڈر پیئر پولیور، اونٹاریو اور سسکیچوان کے پریمیئرز کے مطابق زندگی کے مختلف شعبوں میں ہندو کمیونٹی کا مثبت کردار قابلِ ذکر ہے۔

دھنتیرس گالا میں کیلگری کے میئر جیرومی فارکاس، البرٹا کے وزیر انصاف و اٹارنی جنرل مکی ایمر، سیاسی رہنماؤں، سفارت کاروں، کاروباری شخصیات، کمیونٹی نمائندوں اور کینیڈا سمیت بیرون ملک سے آئے ممتاز مہمانوں نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد ہندو ورثے، ثقافت اور کمیونٹی کی کامیابیوں کو اجاگر کرنا تھا۔

ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے اعزاز ملنے پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے یہ ایوارڈ پاکستان کی ہندو برادری اور ان تمام افراد کے نام کیا جنہوں نے انسانیت کی بے لوث خدمت کے ان کے زندگی بھر کے مشن میں ساتھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایوارڈ صرف ذاتی اعزاز نہیں بلکہ پاکستان کی ہندو کمیونٹی کی ثابت قدمی، پُرامن اقدار اور مثبت خدمات کا اعتراف ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی ان کے اس یقین کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ وہ ہندو ویدک اقدار سیوا، کرما اور وسودھیو کٹمبکم کے مطابق انسانیت کی خدمت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے سیوا کو سب کے لیے بے لوث خدمت، کرما کو اچھے اعمال کے مثبت نتائج اور وسودھیو کٹمبکم کو پوری دنیا کے ایک خاندان ہونے کے تصور سے تعبیر کیا۔

ڈاکٹر وانکوانی نے پاکستان کی روحانی ہندو تہذیب میں اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان میں دنیا کے کئی مقدس ہندو تیرتھ استھان موجود ہیں۔ انہوں نے تقریب کے شرکا کو ہنگلاج ماتا مندر، کٹاس راج منادر، ٹیری مندر، ملتان کے پرہلاد مندر اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کی دعوت دی، جہاں صدیوں سے بھرپور مذہبی و تہذیبی ورثہ محفوظ ہے۔

ان کے مطابق ایسے مقدس مقامات کی یاترا ایک روحانی واپسی کے مترادف ثابت ہو سکتی ہے، جس کے ذریعے قدیم تہذیبی جڑوں سے دوبارہ تعلق، پاکستان کے مذہبی تنوع کا مشاہدہ اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان دوستی، باہمی احترام اور امن کے رشتے مضبوط کیے جا سکتے ہیں۔

پاکستان ہندو کونسل کے پلیٹ فارم سے جاری مختلف فلاحی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے اپنے آبائی علاقے اسلام کوٹ، تھرپارکر میں زیر تعمیر پریم نگر کا بھی حوالہ دیا، جو 150 ایکڑ پر مشتمل ایک ماڈل ویلفیئر ولیج ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عالمی اعتراف انہیں پاکستان اور دنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق، بین المذاہب ہم آہنگی، سماجی انصاف اور انسانی فلاح و بہبود کے لیے کام جاری رکھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے کینیڈین ہندو چیمبر آف کامرس کو ہندو ورثے اور اقدار کی شاندار تقریب کے انعقاد پر مبارکباد بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریب میں دنیا بھر سے ان شخصیات کو سراہا گیا جنہوں نے عوامی خدمت، فلاحی کاموں اور کمیونٹی قیادت میں غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں۔

Share This Article