ایران پاکستان تعلقات باہمی احترام اور بھائی چارے کی نئی بلندیوں پر

newsdesk
4 Min Read
ایران اور پاکستان کے تعلقات کو دماوند اور کے ٹو کی بلند چوٹیوں جیسا مضبوط اور باوقار قرار دیا گیا۔

ایران اور پاکستان کے تاریخی تعلقات وقت کی ہر آزمائش میں سرخرو رہے ہیں۔ صدیوں پر پھیلی مشترکہ تاریخ، تہذیب، عقیدہ اور ثقافت نے دونوں ممالک کے رشتے کو مضبوط، پائیدار اور منفرد بنیاد فراہم کی ہے۔

ایران وہ پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا، جبکہ پاکستان نے بھی اسلامی جمہوریہ ایران کو سب سے پہلے تسلیم کیا۔ یہ دونوں سنگ میل اس امر کی علامت ہیں کہ دونوں ملکوں کے تعلقات ہمیشہ غیر معمولی نوعیت کے حامل رہے ہیں اور اب یہ روابط ماضی کے مقابلے میں ایک نئے اور منفرد دور میں داخل ہو چکے ہیں۔

گزشتہ دو برسوں کے دوران ایران پاکستان تعلقات میں نمایاں مضبوطی آئی ہے۔ دونوں ممالک کی پارلیمانوں کے نمائندے، جو اپنی اپنی اقوام کی آواز ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ حمایت اور یکجہتی کے جذبے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ ان تعلقات کی گہرائی دونوں قوموں اور دونوں حکومتوں کے تمام حلقوں میں بخوبی محسوس کی جاتی ہے۔

اسرائیلی حکومت کی جارحیت کے پہلے ہی روز پاکستانی پارلیمان کے نمائندوں نے ایران کے حق میں قرارداد جاری کی۔ اسی طرح ایرانی پارلیمان کے ارکان نے صدر کی موجودگی میں ’’پاکستان تشکر‘‘ کے نعرے لگائے، جبکہ ایران کے عوام نے بھی سڑکوں پر یہی جذبہ دہرایا اور ایران و پاکستان کے پرچم ساتھ ساتھ لہراتے رہے۔

ایران کے نئے سپریم لیڈر نے اپنے پہلے نوروز پیغام میں بھی پاکستان کے ساتھ ایران کے تعلقات کی اہمیت کا ذکر کیا، جس سے اس دیرپا شراکت داری کی اہمیت مزید واضح ہوئی۔

گزشتہ دو برسوں میں اعلیٰ سطح کے متعدد دوروں نے بھی دونوں ممالک کے درمیان دوستی، اخوت، یکجہتی اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ان دوروں میں صدر مسعود پیزشکیان کے پاکستان کے دو دورے، پاکستان کے معزز وزیر اعظم کے ایران کے کئی دورے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کے متعدد دورے، اور اعلیٰ حکام کے درمیان کئی دیگر تبادلے شامل ہیں۔

جون 2026 میں صدر پیزشکیان نے اسلام آباد کے خوبصورت شہر کا یادگار دورہ کیا، جس کا مقصد ایران کی حکومت اور عوام کی جانب سے پاکستان کی حکومت اور عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا تھا۔ اسی طرح ایران کے شہید سپریم لیڈر کو خراج عقیدت پیش کرنے کی تقریب میں پاکستانی وفد نے اعلیٰ ترین سطح پر شرکت کی، جو سینئر شخصیات پر مشتمل اب تک کا سب سے بڑا وفد تھا۔ یہ شرکت یکجہتی اور باہمی احترام کی مضبوط علامت قرار پائی۔

آج، اللہ تعالیٰ کے فضل سے، ایران اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات اس سطح پر پہنچ چکے ہیں جہاں کوئی چیلنج، کوئی صورت حال یا کوئی بیرونی عامل دونوں قوموں کے درمیان محبت، دوستی اور بھائی چارے کو کمزور نہیں کر سکتا۔ ان تعلقات کا وقار اور مقام دماوند اور کے ٹو کی عظیم چوٹیوں کی طرح بلند ہے۔

ایران اور پاکستان کی دوستی اور اخوت پورے خطے کے لیے باہمی احترام، مخلصانہ بھائی چارے، اچھی ہمسائیگی اور ’’ہم کر سکتے ہیں‘‘ کے جذبے کی مثال بن سکتی ہے۔ دعا ہے کہ خطے کے تمام مسلم اور ہمسایہ ممالک امن، استحکام اور سلامتی کے ماحول میں، بیرونی خطرات اور تباہ کن جنگوں سے آزاد ہو کر، ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اپنے عوام کے لیے ترقی، خوشحالی اور دیرپا فلاح کا مستقبل تعمیر کریں۔

Share This Article