اسلام آباد: نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں معروف سماجی و سیاسی شخصیت اور ماہرِ طب ڈاکٹر جمال ناصر کی خدمات کے اعتراف میں ’’مسیحا‘‘ کے عنوان سے خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جس میں صحافتی برادری کے لیے طبی سہولیات کے حوالے سے اہم اعلان بھی کیا گیا۔
تقریب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)، راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس دستور (آر آئی یو جے دستور) اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔ اس موقع پر نیشنل پریس کلب اور سٹی لیب کے درمیان این پی سی ممبران اور سٹاف کی سہولت کے لیے مختلف ٹیسٹوں پر 50 فیصد تک جبکہ ریڈیالوجی کے شعبے میں 40 فیصد تک رعایت دینے پر اتفاق کیا گیا۔
تقریب میں سینئر صحافیوں، صحافتی تنظیموں کے عہدیداران، سیاسی و سماجی شخصیات اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈاکٹر جمال ناصر نے نیشنل پریس کلب کے ممبران اور سٹاف کے لیے مختلف ٹیسٹوں پر 50 فیصد تک اور ریڈیالوجی میں 40 فیصد تک رعایت دینے کا اعلان کیا۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر جمال ناصر نے اپنے خطاب میں تمام مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہیں صحافتی برادری سے ہمیشہ محبت اور عزت ملی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت ایک مظلوم شعبہ ہے، صحافی دوسروں کے حقوق اور آزادی کی جنگ لڑتے ہیں، لیکن جب ان کے اپنے حقوق کی بات آتی ہے تو انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے صحافتی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں۔
ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ ان کے والد کا صحافیوں اور سیاسی کارکنوں سے دیرینہ تعلق تھا، اسی وجہ سے انہیں بھی صحافت اور صحافیوں سے خصوصی انسیت رہی۔ ان کے مطابق ان کے گھر میں اپنے وقت کے بڑے صحافیوں اور سیاسی شخصیات کی آمد و رفت رہتی تھی، جس سے ان کے اندر صحافت اور صحافیوں کے لیے احترام پیدا ہوا۔
انہوں نے کہا کہ راولپنڈی کی تاریخ، سیاست اور صحافت سے ان کا تعلق کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ اپنی وزارت کے دور کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ انہوں نے سرکاری عہدے کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا اور نہ ہی سرکاری وسائل کا ناجائز استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی وزیر پر غیر ضروری دباؤ ڈالا جائے اور وہ اصولی فیصلہ نہ کر سکے تو اسے وزارت چھوڑ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ والدین نے انہیں سچ بولنے اور اصولوں پر قائم رہنے کی تربیت دی، اسی لیے وہ سیاسی سفر میں بھی اپنے اصولوں پر قائم رہے۔
نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال نے کہا کہ ڈاکٹر جمال ناصر کی فلاحی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسانیت کی خدمت کرنے والوں کو عزت عطا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر جمال ناصر نے صحت، ماحولیات اور دیگر شعبوں میں جو خدمات انجام دیں وہ قابلِ تحسین ہیں۔ عبدالرزاق سیال نے تجویز دی کہ سٹی لیب اور نیشنل پریس کلب کے اشتراک سے صحافیوں کی صحت سے متعلق آگاہی سیمینارز اور میڈیکل کیمپس بھی منعقد کیے جائیں۔
نیشنل پریس کلب کے سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ نے کہا کہ صحافتی برادری کے لیے ڈاکٹر جمال ناصر کی خدمات قابلِ قدر ہیں اور نیشنل پریس کلب کا پلیٹ فارم انسانیت کی خدمت کرنے والی شخصیات کے لیے ہمیشہ دستیاب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر جمال ناصر اور ان کے ادارے کے تعاون سے نیشنل پریس کلب کے ممبران اور ان کے اہلخانہ کے لیے طبی سہولیات اور ٹیسٹوں میں خصوصی رعایت فراہم کی جائے گی۔
ڈاکٹر فرقان راؤ کے مطابق اس سہولت سے نیشنل پریس کلب کے تقریباً 3349 ممبران مستفید ہو سکیں گے، جبکہ ممبران اور سٹاف کے والدین، بچوں اور اہلیہ کو بھی سہولت فراہم کی جائے گی۔
پی ایف یو جے کے صدر حاجی محمد نواز رضا نے ڈاکٹر جمال ناصر کی خاندانی، سیاسی اور سماجی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غریب اور مستحق افراد کی مدد کو ہمیشہ ترجیح دی اور ضرورت مند کو خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر جمال ناصر نے اپنے والدین اور خاندان کی نیک نامی میں اضافہ کیا اور راولپنڈی میں فلاحی خدمات کے ذریعے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی۔
سینئر صحافی سجاد اظہر نے کہا کہ ڈاکٹر جمال ناصر راولپنڈی شہر کی ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے سماجی خدمت، صحت اور فلاحی کاموں کے ذریعے اپنی الگ شناخت بنائی۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم سے پہلے اور بعد راولپنڈی کی تاریخ میں کئی بڑی شخصیات گزری ہیں، تاہم ڈاکٹر جمال ناصر نے اپنی سماجی خدمات کے ذریعے شہر کی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دولت اور کاروبار انسان کے بعد آنے والی نسلوں تک نہیں رہتے، لیکن انسانیت کی خدمت اور فلاحی کام ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔
سابق صدر نیشنل پریس کلب طارق چوہدری نے کہا کہ ڈاکٹر جمال ناصر نے سیاست میں رہتے ہوئے بھی سادگی اور دیانت کی مثال قائم کی۔ ان کے مطابق ڈاکٹر جمال ناصر وزارت کے دوران سرکاری وسائل کے بے جا استعمال سے گریز کرتے اور اپنا کھانا گھر سے دفتر لے جاتے تھے، جو ان کی سادگی اور اصول پسندی کا ثبوت ہے۔
فوٹو جرنلسٹ سجاد حیدر نے کہا کہ انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہسپتال، مسجد اور تھانے میں محسوس ہوتی ہے، ایسے وقت میں جو شخص ساتھ کھڑا ہو اسے زندگی بھر نہیں بھلایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر جمال ناصر نے صحافیوں، ان کے اہلخانہ اور عام شہریوں کی مشکل وقت میں بھرپور مدد کی۔
سینئر صحافی خالد عظیم نے کہا کہ ڈاکٹر جمال ناصر کے بارے میں بات کرنے کے لیے ایک دن کی نشست بھی کم پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر جمال ناصر صرف ایک ڈاکٹر نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے والی شخصیت ہیں، جو مستحق اور ضرورت مند افراد کی مدد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کئی ایسے افراد جو علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، انہیں ڈاکٹر جمال ناصر کے پاس بھیجا جاتا ہے اور ان کے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔
آر آئی یو جے کے صدر رانا کوثر علی نے تقریب میں شرکت پر ڈاکٹر جمال ناصر اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کے اختتام پر نیشنل پریس کلب کی جانب سے ڈاکٹر جمال ناصر کو ان کی سماجی، طبی اور فلاحی خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈ پیش کی گئی، جبکہ گوجرانوالہ یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر طاہر حسین ہاشمی کو بھی شیلڈ دی گئی۔
شرکاء نے ڈاکٹر جمال ناصر کی انسانیت کی خدمت کے لیے جاری کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
