آبادی میں تیز اضافہ قومی چیلنج ہے، بروقت اقدامات ناگزیر ہیں: ڈاکٹر مختار بھرتھ

newsdesk
5 Min Read
اسلام آباد کے بی ایچ یو ترلائی میں تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کے سامان کی حوالگی تقریب منعقد ہوئی۔

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ نے کہا ہے کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے اور اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2040 تک ملک کی آبادی تقریباً 40 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں، بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی فعال شرکت بھی ضروری ہے۔

ڈاکٹر مختار بھرتھ نے ان خیالات کا اظہار تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق ادویات، طبی سامان اور آلات کی حوالگی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد صرف بچوں کی تعداد محدود کرنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر بچہ صحت مند، محفوظ اور باوقار ماحول میں جنم لے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ والدین کو خاندان کی منصوبہ بندی سے پہلے اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ آیا ان کے پاس بچوں کو مناسب غذا، معیاری تعلیم، بروقت حفاظتی ٹیکوں، صحت کی سہولتوں اور بہتر پرورش کی فراہمی کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں یا نہیں۔ ان کے مطابق ایک صحت مند اور خوشحال معاشرہ اسی وقت تشکیل پا سکتا ہے جب ہر بچے کو اس کے بنیادی حقوق میسر ہوں۔

تولیدی صحت کی خدمات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ پاکستان میں جدید مانع حمل طریقوں کا استعمال کئی دیگر ممالک، جن میں سعودی عرب، ایران اور ترکیہ شامل ہیں، کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ اور مؤثر خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں کے محدود استعمال سے غیر ارادی حمل بڑھتے ہیں، جس کے نتیجے میں غیر محفوظ اسقاط حمل کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ صورتحال خواتین کی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتی ہے اور ملک کے صحت کے نظام پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک صحت مند ماں ہی صحت مند خاندان اور مضبوط قوم کی بنیاد ہے۔ کمزور مادری صحت بچوں کی نشوونما، تعلیم، ترقی اور خاندانوں کی مجموعی فلاح و بہبود پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ وزیر مملکت کے مطابق جس طرح والد خاندان کی مالی کفالت کی ذمہ داری نبھاتے ہیں، اسی طرح ماں کی صحت کا تحفظ بھی خاندانی بہبود اور قومی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔

ڈاکٹر مختار بھرتھ نے بتایا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ملک کو درپیش آبادی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نیشنل کونسل تشکیل دی ہے۔ یہ کونسل متوازن آبادی کے فروغ، ماں اور بچے کی صحت میں بہتری اور پاکستان بھر میں خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع قومی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔

حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز صوبائی حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے ملک بھر میں ماں اور بچے کی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات تک رسائی، معیار اور اثر پذیری کو بہتر بنانے کے لیے کام جاری رکھے گی۔

اپنے اختتامی کلمات میں ڈاکٹر مختار بھرتھ نے تمام پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے خاندانی منصوبہ بندی کو ذمہ داری اور شعور کے ساتھ اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی کوششوں سے یہ ممکن بنایا جا سکتا ہے کہ ہر بچہ صحت مند ماحول میں پروان چڑھے، ہر ماں محفوظ رہے اور پاکستان ایک مضبوط، صحت مند اور زیادہ خوشحال ملک بننے کی جانب آگے بڑھے۔

دریں اثنا وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز کے ترجمان کے مطابق حکومت چین نے اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) کے تعاون سے حکومت پاکستان کو تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کے لیے 20 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کی ادویات، طبی سامان اور آلات فراہم کیے ہیں۔

یہ حوالگی تقریب اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو) میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر اس تعاون کو تولیدی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے، ماں اور بچے کی صحت کے نتائج میں بہتری لانے اور پاکستان بھر میں عوام کو معیاری خاندانی منصوبہ بندی خدمات تک رسائی بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔

Share This Article