راولپنڈی: ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے زیر اہتمام راولپنڈی ڈویژن کی ضلعی اور تحصیل بار ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کا اہم اجلاس صدر سعید یوسف خان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پنجاب بار کونسل کے ارکان، بار عہدیداران سمیت مختلف بار ایسوسی ایشنز کے صدور اور سیکرٹریز نے شرکت کی۔
اجلاس کے شرکا نے لاہور ہائی کورٹ میں حالیہ عدالتی تقرریوں کے معاملے پر گہری تشویش ظاہر کی اور کہا کہ راولپنڈی ڈویژن کے اہل اور قابل امیدواروں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جو قابلِ مذمت ہے۔ وکلا نمائندگان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی ڈویژن نے عدلیہ کو ممتاز وکلا، لاء آفیسرز، جج صاحبان اور چیف جسٹس فراہم کیے، مگر 2017ء سے اب تک اس ڈویژن سے کسی جج کی لاہور ہائی کورٹ میں تقرری نہ ہونا ناانصافی کے مترادف ہے۔
اجلاس میں متفقہ طور پر مطالبہ کیا گیا کہ عدالتی تقرریوں میں راولپنڈی ڈویژن کو اس کا جائز حق دیا جائے اور مناسب نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ شرکا نے واضح کیا کہ اگر وکلا برادری کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو آئینی، قانونی اور جمہوری طریقہ کار کے تحت احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کا دائرہ ضرورت پڑنے پر مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر سینئر وکلا پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے کی بھی منظوری دی گئی۔ یہ کمیٹی متعلقہ آئینی حکام سے ملاقات کرے گی اور عدالتی تقرریوں میں راولپنڈی ڈویژن کو نظر انداز کیے جانے کے حوالے سے وکلا برادری کے تحفظات پیش کرے گی، جبکہ مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے کوششیں بھی کرے گی۔
اجلاس کے اختتام پر صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سعید یوسف خان اور سیکرٹری جنرل قاسم محمود ملک نے پنجاب بار کونسل کے ارکان اور تمام ضلعی و تحصیل بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداران کا شرکت، اتحاد اور یکجہتی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ راولپنڈی ڈویژن کی وکلا برادری اپنے آئینی حقوق اور منصفانہ نمائندگی کے حصول تک جدوجہد جاری رکھے گی۔
