ٹیکس ریفنڈ مسترد کرنے کا فیصلہ خلافِ انصاف قرار، ایف ٹی او کی ایف بی آر کو نظرثانی کی ہدایت

newsdesk
3 Min Read
وفاقی ٹیکس محتسب نے ٹیکس گزار کو سماعت کا موقع دے کر ریفنڈ کلیم پر دوبارہ غور کرنے کا حکم دیا۔

اسلام آباد: وفاقی ٹیکس محتسب نے ایک ٹیکس گزار کے انکم ٹیکس ریفنڈ کلیم کو مسترد کرنے کے اقدام کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ معاملے کی دوبارہ جانچ کی جائے اور فیصلہ قانون کے مطابق کیا جائے۔

وفاقی ٹیکس محتسب ظفر حجازی کی جانب سے جاری حکم میں کمشنر اِن لینڈ ریونیو، ریفنڈ زون، آر ٹی او لاہور کو ہدایت دی گئی ہے کہ ٹیکس سال 2024 کے لیے 10 لاکھ 89 ہزار روپے کے ریفنڈ کلیم کے مسترد کیے جانے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے، ٹیکس گزار کو سماعت کا موقع فراہم کیا جائے اور 30 روز کے اندر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔

یہ معاملہ لاہور کے ٹیکس گزار نور محمد بھٹی کی شکایت پر سامنے آیا، جن کا مؤقف تھا کہ انہوں نے ریفنڈ درخواست کے ساتھ تمام لازمی دستاویزات، بشمول باقاعدہ حلف نامہ، جمع کرا دی تھیں۔ شکایت کنندہ کے مطابق حلف نامہ پہلے ہی محکمانہ ریکارڈ پر موجود تھا، اس کے باوجود ریفنڈ کلیم کو مبینہ عدم جمع کرانے کی بنیاد پر مسترد کر دیا گیا۔

ریکارڈ کے جائزے کے بعد وفاقی ٹیکس محتسب نے قرار دیا کہ اسی ٹیکس دفتر نے ٹیکس سال 2023 کے لیے شکایت کنندہ کا ریفنڈ انہی معاون دستاویزات کی بنیاد پر منظور کیا تھا، لہٰذا ٹیکس سال 2024 کے لیے بعد ازاں کلیم مسترد کرنا غیر مستقل مزاج اور من مانی کارروائی کے مترادف ہے۔

حکم میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ منفی فیصلہ کرنے سے قبل ٹیکس گزار کو سماعت کا موقع نہیں دیا گیا، جو اصولِ فطری انصاف کے خلاف ہے۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے محکمہ کی یہ اعتراض بھی مسترد کر دیا کہ معاملہ صرف اپیل کے فورم پر اٹھایا جا سکتا ہے۔ محتسب نے قرار دیا کہ ریفنڈ معاملات میں بدانتظامی سے متعلق شکایات وفاقی ٹیکس محتسب کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ٹیکس محکمہ متعلقہ تقسیم کار کمپنی کے ذریعے ٹیکس گزار کے بجلی کے استعمال کی تفصیلات کی تصدیق کر سکتا تھا، تاہم مناسب تصدیق کے بغیر تکنیکی بنیادوں پر کلیم مسترد کیا گیا۔ محتسب کے مطابق ایسا طرزِ عمل ایف ٹی او آرڈیننس کے تحت بدانتظامی کے زمرے میں آتا ہے۔

وفاقی ٹیکس محتسب نے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ شکایت کنندہ کو منصفانہ سماعت کا موقع دے کر ریفنڈ کلیم پر دوبارہ غور کیا جائے اور 30 روز کے اندر تعمیلی رپورٹ پیش کی جائے۔

Share This Article