اسلام آباد: سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے قومی صحت نے پیر کے روز پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی ایم ڈی کیٹ پالیسی کا تفصیلی جائزہ لیا اور امتحانی شیڈول، نصاب، طلبہ کی شکایات اور اسیسمنٹ کمیٹی کی کارکردگی سے متعلق تحفظات اٹھائے۔ کمیٹی نے وزارت قومی صحت کو ہدایت کی کہ اسیسمنٹ کمیٹی کے ارکان کی مکمل تفصیلات 24 گھنٹوں کے اندر فراہم کی جائیں۔
اجلاس کی صدارت سینیٹر انوشہ رحمان نے کی۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، پی ایم ڈی سی حکام، مختلف جامعات کے وائس چانسلرز اور کمیٹی ارکان اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے آن لائن کارروائی میں حصہ لیا۔
اجلاس کے آغاز پر کمیٹی ارکان نے وفاقی وزیر صحت کی تاخیر سے آمد پر ناراضی کا اظہار کیا۔ سینیٹر شہزیب درانی نے نشاندہی کی کہ وزیر کی درخواست پر اجلاس پہلے ہی تین مرتبہ ری شیڈول کیا جا چکا تھا۔
پی ایم ڈی سی حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس سال ایم ڈی کیٹ 36 شہروں میں لیا جائے گا، جن میں پاکستان کے 35 شہر اور سعودی عرب کے شہر ریاض کا ایک مرکز شامل ہے۔ حکام کے مطابق تقریباً ایک لاکھ 35 ہزار امیدوار امتحان میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں سامنے آنے والے تنازعات اور پرچے سے متعلق مسائل کے حل کے لیے قومی سطح پر یکساں نصاب متعارف کرایا گیا ہے۔
تاہم سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ کمیٹی کو نصاب کے حوالے سے تقریباً ایک ہزار شکایات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ طلبہ کو مہنگی اکیڈمیوں پر انحصار کرنے پر کیوں مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ شکایات بھی اجاگر کیں کہ ایف ایس سی کے طلبہ کو اے لیول کا مواد پڑھنا پڑ رہا ہے جبکہ اے لیول کے طلبہ کو ایف ایس سی کی کتابوں سے تیاری کا کہا جا رہا ہے۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ ایف ایس سی، اے لیول اور ایم ڈی کیٹ کے امتحانی شیڈول ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں، جس سے طلبہ پر غیر ضروری دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر کمیٹی کا یہ دوسرا اجلاس ہے، اس کے باوجود متاثرہ طلبہ کی جانب سے انہیں روزانہ تقریباً 50 پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔
تحفظات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ انہوں نے حقیقی شکایات رکھنے والے طلبہ کو دعوت دی کہ وہ براہ راست پی ایم ڈی سی حکام سے ملاقات کریں تاکہ ان کے مسائل حل کیے جا سکیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ سال صرف چار باضابطہ شکایات موصول ہوئی تھیں، جبکہ سوشل میڈیا پر آنے والے متعدد پیغامات کو انہوں نے تنازع پیدا کرنے کے لیے ایک “مافیا مہم” قرار دیا۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا: “میری اسیسمنٹ یہ ہے کہ ہمارا نظام پرفیکٹ ہے۔ اگر ایک طالب علم کا بھی حقیقی مسئلہ ہو تو ہم اسے حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ پی ایم ڈی سی امتحانی شیڈول میں پہلے ہی ردوبدل کر چکا ہے اور ایم ڈی کیٹ اب بورڈ امتحانات کے اختتام کے تین ہفتے بعد منعقد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق آخری بورڈ امتحان 20 جولائی کو ختم ہوگا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر انوشہ رحمان نے وفاقی وزیر کو یاد دہانی کرائی کہ کمیٹی کا کردار وزارت کو عوامی شکایات کے حل میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ کمیٹی نے ایم ڈی کیٹ اسیسمنٹ کمیٹی کے ارکان کی مکمل تفصیلات بھی طلب کیں، جس پر وفاقی وزیر صحت نے یقین دہانی کرائی کہ مطلوبہ معلومات آئندہ 24 گھنٹوں میں فراہم کر دی جائیں گی۔
