اسلام آباد (سٹی رپورٹر) نور مقدم کی پانچویں برسی کے موقع پر نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں تعزیتی اور یادگاری تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں انصاف کے نظام کو مؤثر بنانے، خواتین کے تحفظ اور عدالتی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
تقریب میں نور مقدم کے والد شوکت مقدم، ممتاز سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ، رکن قومی اسمبلی عائشہ سید، سی ای او زینتھ میڈیا سعدیہ حیات خان، سابق صدر روٹری کلب ڈاکٹر ملک اشرف حمید، وکیل، دستاویزی فلم ساز اور ڈرامہ پروڈیوسر حلیمہ طارق سمیت سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا، صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
شرکاء نے نور مقدم کی مغفرت کے لیے دعا کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کے تحفظ، انسانی وقار، قانون کی بالادستی اور بروقت انصاف کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی عائشہ سید نے کہا کہ نور مقدم کا معاملہ محض ایک فرد یا ایک خاندان کا نہیں بلکہ انصاف، انسانی وقار اور خواتین کے تحفظ سے جڑا ایک اہم سماجی سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں صرف بیٹیوں ہی نہیں بلکہ بیٹوں کی تربیت بھی ایسی ہونی چاہیے جس میں دوسروں کی عزت، وقار اور حقوق کے احترام کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔
عائشہ سید کا کہنا تھا کہ ظلم کے خلاف خاموشی دراصل ظلم کو مضبوط کرتی ہے۔ پانچ سال گزرنے کے باوجود یہ سانحہ معاشرے کے سامنے یہ سوال رکھتا ہے کہ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں، بالخصوص بچیوں، کو محفوظ ماحول دینے میں کامیاب ہو سکے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر قوانین پر سختی سے عملدرآمد، فوری انصاف، والدین، تعلیمی اداروں، میڈیا اور معاشرے کے تمام طبقات کا مشترکہ کردار ناگزیر ہے۔
ممتاز سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ دن خوشی کا نہیں بلکہ دکھ، یاد اور عزم کا دن ہے۔ نور مقدم کی جدائی کا غم ہمیشہ محسوس کیا جائے گا، تاہم نور نے ایک ایسی میراث چھوڑی ہے جس نے مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو انصاف اور انسانی وقار کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا۔
طاہرہ عبداللہ نے کہا کہ نور مقدم کے بہیمانہ قتل کو کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا اور کسی بھی انسان کے قتل کا کوئی جواز قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شوکت مقدم کی قیادت میں نفرت اور تشدد کے بیانیے کا مؤثر جواب دیا گیا اور انصاف کی آواز مزید مضبوط ہوئی۔
نور مقدم کے والد شوکت مقدم نے کہا کہ گزشتہ پانچ برس ان کے خاندان کے لیے انتہائی مشکل رہے، تاہم میڈیا، سول سوسائٹی، دوستوں اور عوام کی مسلسل حمایت نے انہیں حوصلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ نور مقدم کا مقدمہ صرف ان کے خاندان کا نہیں رہا بلکہ پورے معاشرے کا مقدمہ بن گیا، اسی لیے عوام نے اسے اپنا دکھ سمجھ کر انصاف کی جدوجہد میں ساتھ دیا۔
شوکت مقدم نے عدالتی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تجویز دی کہ سنگین جرائم کے مقدمات کے لیے قانون کے ذریعے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے تاکہ ٹرائل کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مقدمات برسوں تک زیر التوا نہ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سزاؤں پر بروقت عملدرآمد نہ ہو تو قانون کی عملداری متاثر ہوتی ہے اور مجرموں میں خوف ختم ہو جاتا ہے۔
انہوں نے پولیس کی تفتیشی ٹیم کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو بھی سراہا اور کہا کہ جدید سائنسی شواہد اور دیانتداری سے کی گئی تحقیقات نے انصاف کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ شوکت مقدم نے میڈیا، سول سوسائٹی اور تمام معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے معاشرے کو متحد رہنا ہوگا۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے نور مقدم سمیت تشدد کا نشانہ بننے والی تمام خواتین کے لیے دعا کی۔ اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ خواتین کے تحفظ، انسانی وقار، قانون کی بالادستی اور فوری انصاف کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ آخر میں نور مقدم کی یاد میں شمعیں بھی روشن کی گئیں۔
