پاکستانی فری لانسرز کی ترسیلات میں نیا ریکارڈ، مالی سال 26 میں 1.76 ارب ڈالر حاصل

newsdesk
4 Min Read
پاکستانی فری لانسرز نے مالی سال 2025-26 میں غیر ملکی زرمبادلہ کی مد میں ریکارڈ 1.76 ارب ڈالر حاصل کیے۔

لاہور: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی فری لانسرز نے مالی سال 2025-26 کے دوران غیر ملکی زرمبادلہ کی مد میں ریکارڈ 1.76 ارب ڈالر کمائے، جو مالی سال 2025 میں حاصل ہونے والے 984 ملین ڈالر کے مقابلے میں 78 فیصد زیادہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق آئی ٹی شعبے سے وابستہ فری لانسرز نے مالی سال 26 میں 1.16 ارب ڈالر سے زائد کی آمدن حاصل کی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ رقم 779 ملین ڈالر تھی۔ اس طرح آئی ٹی فری لانسنگ آمدن میں 49 فیصد، یعنی 385 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

غیر آئی ٹی فری لانسرز کی برآمدی آمدن بھی نمایاں طور پر بڑھی اور مالی سال 25 کے 205 ملین ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 26 میں 592 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس شعبے میں 188 فیصد، یعنی 387 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔

پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (PAFLA) کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ فری لانسرز پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، خصوصاً غیر ملکی زرمبادلہ کی آمدن اور ٹیکس ادائیگیوں کے ذریعے اہم معاشی اشاریوں کو مضبوط بنانے میں ان کا حصہ نمایاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فری لانسنگ کمیونٹی چند ہی برسوں میں معاشی ترقی کی ایک اہم قوت بن کر ابھری ہے اور اس کی برآمدی آمدن کئی روایتی شعبوں سے آگے نکل چکی ہے۔

ابراہیم امین نے کہا کہ پاکستانی فری لانسرز اپنی صلاحیت اور محنت سے نہ صرف اپنے روزگار کو بہتر بنا رہے ہیں بلکہ ایک زیادہ پیداواری، ہنرمند اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار افرادی قوت کی تشکیل میں بھی حصہ ڈال رہے ہیں۔

صنعتی اندازوں کے مطابق پاکستان میں کل وقتی اور جز وقتی فری لانسرز کی تعداد تقریباً 30 لاکھ ہے، جس کے باعث پاکستان دنیا کی چوتھی بڑی فری لانسنگ ورک فورس کا حامل ملک ہے۔

PAFLA کے صدر اور چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عمران بٹادا نے نوجوانوں کو عالمی فری لانسنگ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام کے لیے درکار مہارتوں سے آراستہ کرنے کی خاطر ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ پروگرامز کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق اس اقدام سے بے روزگاری اور غربت میں کمی کے ساتھ برآمدی آمدن میں اضافہ ممکن ہوگا۔

ڈاکٹر عمران بٹادا نے کہا کہ PAFLA آئندہ سال کے دوران ہزاروں مزید پاکستانی نوجوانوں کے لیے مفت ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے، خاص طور پر مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت ملک کے سب سے بڑے قومی اثاثوں میں سے ایک ہے۔ ان کے بقول فری لانسرز کو انفرادی کاموں سے آگے سوچتے ہوئے اسٹارٹ اپس یا رجسٹرڈ کمپنیوں کی شکل اختیار کرنی چاہیے، ساتھ ہی ابھرتی ہوئی اور زیادہ طلب رکھنے والی ٹیکنالوجیز میں اپنی مہارت مسلسل بہتر بنانی چاہیے۔

ڈاکٹر بٹادا نے حکومت کی جانب سے فری لانسنگ شعبے کے لیے سازگار ٹیکس پالیسیوں اور مختلف اسکلز ڈویلپمنٹ و ٹریننگ اقدامات کے ذریعے مسلسل تعاون کو بھی سراہا اور کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کو مزید تیز کریں گے۔

Share This Article