اسلام آباد، 18 جولائی 2026: پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے نوجوان سائنس دانوں پر زور دیا ہے کہ وہ دنیا میں تیار ہونے والی ایجادات کے محض صارف نہ رہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے خالق بنیں۔ انہوں نے کہا کہ سائنس، تحقیق اور انسانی وسائل کی ترقی میں مسلسل سرمایہ کاری پاکستان کی مستقبل کی مسابقت کے لیے ناگزیر ہے۔
وہ ہفتہ کے روز فزکس اینڈ کنٹیمپرری نیڈز کے موضوع پر 51ویں انٹرنیشنل نتھیاگلی سمر کالج (آئی این ایس سی) کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیر اہتمام یہ معتبر سائنسی پروگرام 6 جولائی سے 18 جولائی تک جاری رہا، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے ممتاز سائنس دانوں، محققین اور نوجوان اسکالرز نے شرکت کی اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز سے متعلق علمی تبادلہ خیال کیا۔
ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ دنیا مصنوعی ذہانت، جدید مینوفیکچرنگ، بایوٹیکنالوجی اور صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز کے باعث ایک فیصلہ کن تکنیکی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اقوام کے درمیان مقابلہ قدرتی وسائل کے بجائے خیالات، جدت، صلاحیت اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے پاس وہ ٹیلنٹ، ادارے اور عزم موجود ہے جس کی بدولت ملک علم پیدا کرنے والی قوم کے طور پر ابھر سکتا ہے، مقامی ٹیکنالوجیز تیار کر سکتا ہے اور عالمی مسائل کے حل میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
چیئرمین پی اے ای سی نے کہا کہ انٹرنیشنل نتھیاگلی سمر کالج گزشتہ پانچ دہائیوں سے زائد عرصے سے نوجوان محققین کو عالمی شہرت یافتہ سائنس دانوں سے جوڑ کر سائنسی ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پلیٹ فارم نے جدت، اشتراک اور تنقیدی سوچ کو فروغ دیا، جبکہ اس کے متعدد سابق شرکا آج اہم تحقیقی اداروں، جامعات، صنعتوں اور اسٹریٹجک اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس سال کے تعلیمی پروگرام میں پاکستان کے مستقبل سے براہ راست تعلق رکھنے والی ٹیکنالوجیز پر توجہ دی گئی، جن میں مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ، جدید مینوفیکچرنگ تکنیک، زراعت اور بایوٹیکنالوجی میں نیوکلیئر تکنیک، صحت اور ماحولیات میں نیوکلیئر تکنیک، نیز پلازما سائنس اور فیوژن ٹیکنالوجی میں پیش رفت شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ابھرتے ہوئے شعبے صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے، غذائی تحفظ میں اضافے، صحت کی سہولتوں میں بہتری، ماحول کے تحفظ اور مستقبل کی توانائی کے حل میں معاون ثابت ہوں گے۔
ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ سمر کالج کے موضوعات حکومت پاکستان کے ’’اڑان پاکستان‘‘ اقدام سے ہم آہنگ ہیں، جس کا مقصد جدت، ڈیجیٹل تبدیلی، صنعتی جدت کاری اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کے ذریعے پائیدار معاشی ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی این ایس سی جیسے فورمز اعلیٰ تربیت یافتہ سائنس دان تیار کر کے اور پاکستان کے اختراعی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنا کر اس قومی مشن میں براہ راست حصہ ڈالتے ہیں۔
پروگرام کے بین الاقوامی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے چیئرمین پی اے ای سی نے کہا کہ سمر کالج نے لیکچر ہال سے آگے بڑھ کر بامعنی نتائج دیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زراعت اور بایوٹیکنالوجی کے شعبوں میں چین کے شہر آنیانگ میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف کاٹن ریسرچ، چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے ساتھ ممکنہ تعاون کی نئی راہیں کھلی ہیں۔ ممتاز بین الاقوامی فیکلٹی کے ساتھ تکنیکی اجلاسوں میں مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی کی ترقی اور طویل المدتی ادارہ جاتی تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا، جس سے پاکستان کی سائنسی سفارت کاری اور عالمی شراکت داری کو تقویت ملی۔
اس سال سمر کالج میں 20 ممالک سے 45 ممتاز سائنس دان شریک ہوئے، جبکہ تقریباً 300 منتخب شرکا نے بالمشافہ شرکت کی۔ اس کے علاوہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی سہولت سے براہ راست نشریات کے ذریعے سیکڑوں افراد نے بھی پروگرام میں آن لائن شرکت کی۔
پی اے ای سی کی پرامن مقاصد کے لیے نیوکلیئر سائنس و ٹیکنالوجی سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ کمیشن صاف نیوکلیئر پاور جنریشن، ملک بھر میں قائم 21 اٹامک انرجی کینسر اسپتالوں کے ذریعے جامع کینسر علاج، غذائی تحفظ کے لیے بہتر فصلوں کی اقسام کی تیاری، اور مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجیز، جدید مواد اور سیمی کنڈکٹر سائنسز میں اعلیٰ تحقیق کے ذریعے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
نوجوان سائنس دانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سمر کالج سے حاصل ہونے والے علم کو دریافت اور جدت کے طویل سفر کا آغاز سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل وہی لوگ تشکیل دیں گے جو نیا علم پیدا کرنے، مقامی ٹیکنالوجیز تیار کرنے اور اختراعی خیالات کو عملی حل میں بدلنے کا وژن اور عزم رکھتے ہوں گے۔
چیئرمین پی اے ای سی نے سمر کالج کے کامیاب انعقاد پر انتظامی کمیٹی، بین الاقوامی فیکلٹی، شراکت دار اداروں اور شرکا کو مبارکباد دی اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سائنسی تحقیق، جدت اور انسانی وسائل کی ترقی میں مسلسل سرمایہ کاری پاکستان کو مستقبل کی تکنیکی پیش رفت میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممبر سائنس پی اے ای سی ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے کہا کہ اس پروگرام کے انعقاد کا مقصد پاکستان کی ابھرتی ہوئی ضروریات کا جائزہ لینا تھا۔ اسی مقصد کے تحت صحت اور ماحولیات سے متعلق نئے کورسز شامل کیے گئے، جبکہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت اور غذائی تحفظ کے لیے زراعت میں نیوکلیئر تکنیک کے استعمال کو بھی پروگرام کا حصہ بنایا گیا۔
ڈاکٹر شکیل روفی نے کہا کہ چائے پر بھرپور مباحثے، تکنیکی اجلاس، شرکا کا تجسس اور فیکلٹی کی جانب سے ان سوالات کے فراخ دلانہ جوابات آئی این ایس سی 2026 کی نمایاں خصوصیات رہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی اجلاسوں کو سائنسی کمیونٹیز اور دیرپا شراکت داریوں میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ انہوں نے زراعت، ماحولیات، آئسوٹوپک ہائیڈرولوجی اور فیول سیل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کی نئی راہیں کھولنے پر چینی اور ملائیشین ماہرین کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے میڈیکل یونیورسٹی ویانا کے ڈاکٹر گیرڈ ہیلمر کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستانی تحقیقی اداروں کو ریڈیو تھراپی سے متعلق اپنی اے آئی لیب تک اعزازی رسائی فراہم کی۔
اس سے قبل آئی این ایس سی کے سائنٹفک سیکرٹری ڈاکٹر راحت اللہ نے کالج کے اہم موضوعات اور دو ہفتوں کے انٹرایکٹو سیشنز کے دوران حاصل ہونے والی نمایاں کامیابیوں پر بریفنگ دی۔
پروگرام کے دوران پوسٹر مقابلہ بھی منعقد کیا گیا، جس کی جانچ غیر ملکی فیکلٹی پر مشتمل ماہرین کے پینل نے کی۔ پوسٹر مقابلے میں پہلا انعام اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کی مس سالکہ جاوید نے پانی کے معیار سے متعلق پوسٹر پر حاصل کیا۔ دوسرا انعام قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کی مس رباب منصور نے شمالی علاقوں میں ماحول پر مائیکرو پلاسٹکس کے اثرات سے متعلق کام پر جیتا، جبکہ تیسرا انعام کامسیٹس یونیورسٹی لاہور کی مس آمنہ ذکا اللہ نے حاصل کیا۔
تقریب کے اختتام پر چیئرمین پی اے ای سی ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے پوسٹر مقابلے کے فاتحین میں انعامات تقسیم کیے اور قومی و بین الاقوامی فیکلٹی ارکان کو یادگاری شیلڈز پیش کیں۔
