ریبیز کنٹرول فریم ورک کی تیاری کی اصولی منظوری

newsdesk
3 Min Read
مصطفیٰ کمال سے انڈس ہاسپٹل وفد کی ملاقات

دی انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالباری خان نے وفد کے ہمراہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں ریبیز کی روک تھام اور مؤثر کنٹرول کے لیے قومی سطح پر فوری اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وفد نے پاکستان میں ریبیز کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ ملک میں ریبیز کی نگرانی کا کوئی مؤثر قومی نظام موجود نہیں، تاہم دستیاب اندازوں کے مطابق ہر سال تقریباً , افراد ریبیز کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جبکہ ہر سال لاکھوں کتوں کے کاٹنے کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ریبیز سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں بچے، دیہی علاقوں کے رہائشی اور شہری مضافات کی محروم آبادیاں شامل ہیں۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں ریبیز کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر نے قومی ریبیز پریوینشن اینڈ کنٹرول فریم ورک کی تیاری کی اصولی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے جلد نیشنل ٹیکنیکل ورکنگ ایڈوائزری گروپ تشکیل دیا جائے گا، جو قومی فریم ورک کی تیاری کی قیادت کرے گا۔

مصطفیٰ کمال نے اس قابل تدارک بیماری سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے ملک گیر آگاہی مہم شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بالخصوص وزیراعلیٰ سندھ کی زیر قیادت شروع کی گئی صوبہ بھر کی انسداد ریبیز مہم کو سراہا۔

وفاقی وزیر صحت نے ریبیز کی روک تھام کے لیے دی انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی تکنیکی معاونت کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں اور تکنیکی شراکت داروں کے اشتراک سے پاکستان میں ریبیز سے ہونے والی قابل تدارک اموات کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

اس موقع پر ڈاکٹر عبدالباری خان نے وفاقی وزیر کو سندھ آفیشل گائیڈ لائنز فار پریوینشن آف ہیومن ریبیز پیش کیں، جو دی انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی تکنیکی معاونت سے تیار کی گئی ہیں۔

وفاقی وزیر نے مرحومہ پروفیسر نسیم صلاح الدین کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی وفات پر افسوس اور اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر نسیم صلاح الدین کی ریبیز کی روک تھام اور پاکستان میں عوامی صحت کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے