راولپنڈی: پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے پاکستان کے آبی حقوق، قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کے تحت پاکستان کے قانونی پانی کے حصے سے محروم کرنے کی کوئی کوشش کی تو اسے اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔
اپنے بیان میں بیرسٹر دانیال چوہدری نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کے یکطرفہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون، معاہداتی ذمہ داریوں اور مشترکہ بین الاقوامی آبی وسائل سے متعلق تسلیم شدہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے، جسے کسی ایک فریق کی جانب سے یکطرفہ طور پر نہ تو معطل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی غیر مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش 24 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کے آبی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معاہداتی نظام کی ساکھ کو بھی متاثر کرے گی۔
بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ "سندھ طاس معاہدہ کسی ملک کی جانب سے دیا گیا احسان نہیں بلکہ پاکستان کا قانونی اور تسلیم شدہ حق ہے۔ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس کا رخ موڑنے یا اسے بطور ہتھیار استعمال کرنے کی ہر کوشش ہماری قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہوگی اور اسے اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے تحت دستیاب تمام سفارتی، سیاسی اور قانونی ذرائع استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق امن اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے، تاہم اس کی امن پسندی کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے۔
بیرسٹر دانیال چوہدری نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں ہونے والی 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فورم نے قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی اور پاکستان کے آبی حقوق کے ہر قیمت پر تحفظ کے لیے مسلح افواج کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت، پارلیمنٹ، مسلح افواج اور پوری قوم ملک کے آبی تحفظ کے دفاع کے لیے متحد ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون اور تنازعات کے پرامن حل کے حوالے سے چین کے اصولی مؤقف کا بھی خیرمقدم کیا۔
پارلیمانی سیکریٹری نے اقوام متحدہ، دوست ممالک اور تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی سالمیت اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن صرف بین الاقوامی قانون کے احترام، معاہدوں پر دیانتدارانہ عملدرآمد اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
