اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر پاکستان نظریاتی پارٹی کے چیئرمین شیعر حیدر سیالوی اور آزاد کشمیر پارٹی کے چیئرمین سردار زبیر خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور حکومت اور پبلک ایکشن کمیٹی کے درمیان اختلافات فوری طور پر بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں تاکہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان اعتماد کو نقصان نہ پہنچے۔
شیعر حیدر سیالوی نے کہا کہ کشمیری عوام نے ہمیشہ پاکستان سے محبت کی ہے اور پاکستان کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، تاہم حالیہ صورتحال اور بعض سیاسی بیانات سے کشمیری عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری کشمیری قوم کو غدار کہنا ناقابل قبول ہے، کیونکہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ آج بھی پاکستان کے لیے جانیں قربان کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے عوامی نمائندوں اور مظاہرین سے مذاکرات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اپنے لوگ احتجاج کریں تو انہیں دشمن نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ بچوں کی طرح ان کی بات سننی چاہیے۔
شیعر حیدر سیالوی نے کہا کہ حکومت کو آزاد کشمیر کے عوام کے بنیادی مسائل، خاص طور پر آٹا، بجلی اور دیگر ضروریات زندگی کے حل کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ ان کے مطابق مظاہرین کے زیادہ تر مطالبات مان لیے گئے ہیں، تاہم ان پر عملدرآمد کے لیے کوئی باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، جس سے بے چینی بڑھی ہے۔
انہوں نے آزاد کشمیر میں انتخابات ایک ماہ کے لیے مؤخر کرنے کا مطالبہ بھی کیا تاکہ حالات معمول پر آسکیں اور تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں طور پر مہم چلانے کا موقع مل سکے۔
اس موقع پر سردار زبیر خان نے کہا کہ کشمیری عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں، مگر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی ختم کرنے کے لیے سیاسی قیادت کو زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نظریاتی پارٹی آزاد کشمیر کی نشستوں پر امیدوار کھڑا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلائے گی۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر پارٹی قیادت نے حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر سے اپیل کی کہ کشیدگی بڑھانے کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے، عوام کے خدشات دور کیے جائیں اور پاکستان و کشمیر کے تاریخی تعلق کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
