اسلام آباد میں روانڈا کی ۳۲ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے ایک پُروقار استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی، جس میں روانڈا کی برادری، روانڈا دوست حلقوں، حکومتی شخصیات، سفارت کاروں، کاروباری شخصیات، اساتذہ، میڈیا نمائندوں اور دیگر مہمانوں نے شرکت کی۔ یہ تقریب مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی اور اس کا مقصد روانڈا کی آزادی، استقامت اور ترقی کے سفر کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روانڈا کی ہائی کمشنر برائے پاکستان حرریمانا فاتو نے یومِ آزادی روانڈا کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن روانڈا کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اسی مرحلے سے ملک نے اتحاد، مفاہمت، نظم و نسق اور ترقی کی راہ اختیار کی۔ ان کے مطابق روانڈا نے گزشتہ تین دہائیوں میں نمایاں تبدیلی دیکھی ہے اور آج وہ استقامت اور جدت کی ایک مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ہائی کمشنر نے ان رُوانڈین شہریوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے نسل کشی کو روکا اور ملک کو آزادی دلانے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے روانڈا پیٹریاٹک آرمی کے بہادر سپاہیوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جرات اور ایثار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روانڈا پیٹریاٹک فرنٹ کی قیادت میں، صدر پال کاگامے کی رہنمائی کے تحت، ملک نے تاریخی ترقی کی ہے اور آج افریقہ کے ایک ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر اپنی پہچان بنا چکا ہے۔اس موقع پر وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک مہمانِ خصوصی تھے۔ انہوں نے پاکستان اور روانڈا کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک دفاع، تجارت، صحت، تعلیم، زراعت، سیاحت اور پارلیمانی روابط کے مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر بھی دونوں ممالک امن، ماحولیاتی اقدامات اور پائیدار ترقی کے حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ روانڈا کا یومِ آزادی ۴ جولائی ۱۹۹۴ سے شروع ہونے والے نئے دور کی یاد دلاتا ہے، جس میں اتحاد، مفاہمت اور سماجی و معاشی تبدیلی کا سفر جاری رہا۔ انہوں نے روانڈا کی کامیابیوں کو قابلِ ذکر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور روانڈا کے تعلقات آئندہ بھی مزید مضبوط ہوں گے اور دونوں ممالک کے لیے باہمی فائدے کا باعث بنیں گے۔تقریب میں کیک کاٹا گیا، جس سے جشن کے ماحول کو مزید نمایاں کیا گیا۔ شرکا کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے پاکستان میں روانڈا کے لیے خیرسگالی اور دوستانہ جذبات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر روانڈا کی ثقافتی موسیقی پیش کی گئی، جس نے تقریب میں خوشگوار ماحول پیدا کیا اور مہمانوں کو روانڈا کے ثقافتی ورثے سے روشناس کرایا۔تقریب میں روانڈا کی مشہور کافی کے لیے ایک خصوصی اسٹال بھی لگایا گیا، جہاں بالخصوص نوجوانوں نے دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس انتظام کا مقصد روانڈا کی زرعی مصنوعات اور اعلیٰ معیار کی کافی کو متعارف کرانا تھا، جو ملک کی برآمدات میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ استقبالیہ کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، ثقافت، سیاحت اور عوامی روابط کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
