بجٹ 2026–27 میں سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) میں اضافہ نہ ہونے سے قیمتی جانوں اور قومی آمدن کا نقصان بڑھے گا۔ڈاکٹر خلیل احمد
اسلام آباد، 3 جولائی 2026: سپارک (سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ) نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026–27 میں سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) میں اضافہ نہ کرنے سے ایک موقع ضائع موقع ہو گیا ہے، جس کے باعث نہ صرف بچوں اور نوجوانوں کی صحت کے تحفظ کا اہم موقع ہاتھ سے نکل گیا بلکہ حکومت بھی سالانہ تقریباً 51 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل کرنے سے محروم رہےگی۔
سپارک کے پروگرام منیجر ڈاکٹر خلیل احمد نے کہا کہ سگریٹ پر ٹیکس میں اضافہ نہ کرنے کے باعث حکومت سالانہ تقریباً 51 ارب روپے کی اضافی آمدن سے محروم رہے گی۔ انہوں نے سوشل پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر (SPDC) کے تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر اکانومی برانڈز پر فی پیکٹ 35 روپے اور پریمیم برانڈز پر 21 روپے فی پیکٹ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھا دی جاتی تو اس سے صحتِ عامہ کے حوالے سے نمایاں فوائد حاصل ہو سکتے تھے۔ اس اقدام سے 3 لاکھ 69 ہزار نوجوان سگریٹ نوشی شروع کرنے سے بچ سکتے تھے، 2 لاکھ 71 ہزار افراد سگریٹ نوشی ترک کر سکتے تھے، جبکہ مجموعی طور پر 2 لاکھ 79 ہزار جانیں بچائی جا سکتی تھیں، جن میں 1 لاکھ 85 ہزار نوجوان اور 95 ہزار بالغ افراد شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرحیں فروری 2023 سے تبدیل نہیں کی گئیں، جس کے نتیجے میں سگریٹ کی خوردہ قیمت میں ٹیکس کا حصہ کم ہو گیا ہے اور خصوصاً کم قیمت برانڈز پہلے سے زیادہ سستے اور قابلِ خرید ہو گئے ہیں، جو زیادہ تر بچوں، نوجوانوں اور کم آمدن والے افراد کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بجٹ 2026–27 سے قبل سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کی باقاعدہ تجویز حکومت کو پیش کی گئی تھی، جو بچوں اور نوجوانوں کو سگریٹ نوشی شروع کرنے سے روکنے کا ایک اہم موقع تھا، مگر افسوس کہ اس سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔
ڈاکٹر خلیل احمد نے کہا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی بدستور صحتِ عامہ کے لیے ایک سنگین بحران بنی ہوئی ہے، جس کے باعث ہر سال ایک لاکھ 92 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں، یعنی اوسطاً روزانہ تقریباً 526 اموات ہوتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2024–25 کے دوران سگریٹ نوشی سے متعلق بیماریوں کا معاشی بوجھ تقریباً 1,835 ارب روپے رہا، جبکہ اسی عرصے میں تمباکو پر عائد ٹیکسوں سے صرف 266 ارب روپے کی وصولی ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں سگریٹ پر ٹیکس کی شرحیں طویل عرصے سے جمود کا شکار ہیں، جس کے باعث ملک میں سگریٹ کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں اب بھی کم ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سستے سگریٹ بچوں اور نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ایک اہم سبب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی شواہد واضح کرتے ہیں کہ تمباکو پر زیادہ ٹیکس عائد کرنا بچوں اور نوجوانوں کو سگریٹ نوشی شروع کرنے سے روکنے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے، کیونکہ قیمتوں میں اضافہ اس عمر کے افراد میں سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔
ڈاکٹر خلیل احمد نے کہا کہ سگریٹ پر ٹیکس میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ نہ صرف صحتِ عامہ بلکہ قومی آمدن دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا اور تمباکو کے استعمال میں کمی اور آئندہ نسلوں کے تحفظ کے قومی اہداف کو بھی متاثر کرے گا
