آئی ایس ایس آئی میں ’’امریکہ۔ایران محاذ آرائی اور اس کے علاقائی اثرات‘‘ پر خصوصی رپورٹ کی تقریبِ رونمائی

newsdesk
5 Min Read
میں امریکہ ایران تصادم اور اس کے علاقائی اثرات پر خصوصی رپورٹ کی رونمائی

آئی ایس ایس آئی میں ’’امریکہ۔ایران محاذ آرائی اور اس کے علاقائی اثرات‘‘ پر خصوصی رپورٹ کی تقریبِ رونمائی

اسلام آباد: انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) کے سینٹر برائے افغانستان، مشرقِ وسطیٰ و افریقہ (CAMEA) کے زیرِ اہتمام ’’امریکہ۔ایران محاذ آرائی اور اس کے علاقائی اثرات‘‘ کے عنوان سے خصوصی رپورٹ کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔

تقریب کی مہمانِ خصوصی سابق سفیر ملیحہ لودھی تھیں، جبکہ ایمبیسڈر خالد محمود (چیئرمین، بورڈ آف گورنرز، آئی ایس ایس آئی) اور ڈاکٹر آمنہ خان (ڈائریکٹر، CAMEA) نے بھی خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں سفیر ملیحہ لودھی نے اس بروقت اور جامع رپورٹ کی تیاری پر CAMEA کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع پر مختلف ماہرین کی متنوع آراء شامل کی گئی ہیں، جو اس اہم علاقائی مسئلے کا متوازن تجزیہ پیش کرتی ہیں۔

انہوں نے پاکستان کے ثالثی کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان کو امریکہ اور ایران دونوں کا اعتماد حاصل ہے، جس کی بدولت وہ تعمیری سفارتی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کا امن صرف بیرونی طاقتوں پر انحصار سے ممکن نہیں بلکہ پائیدار استحکام کے لیے علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔

ملیحہ لودھی نے پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کو ایک ایسے مؤثر علاقائی گروپ کے طور پر پیش کیا جو مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چار ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والا معاہدہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ پیچیدہ سیاسی تنازعات کا حل صرف فوجی طاقت سے ممکن نہیں۔ ان کے مطابق امریکہ اپنے اعلانیہ مقاصد، جن میں ایران میں نظام کی تبدیلی اور اس کے جوہری ڈھانچے کا مکمل خاتمہ شامل تھا، حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

سابق سفیر نے مزید کہا کہ اگرچہ جنگ کے دوران دھمکیوں اور سخت بیانات کا تبادلہ جاری رہا، تاہم سفارت کاری کا عمل بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا، جس نے کشیدگی میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتوں کے درمیان بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست بین الاقوامی نظام کو نئی شکل دے رہی ہے اور دنیا اس وقت غیر یقینی صورتحال کے دور سے گزر رہی ہے۔

چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس ایس آئی، سفیر خالد محمود نے کہا کہ مشرق وسطیٰ عالمی امن، سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے انتہائی اہم خطہ ہے، جبکہ امریکہ۔ایران محاذ آرائی اس خطے اور دنیا پر گہرے اثرات مرتب کرنے والا اہم مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) نے کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارتی روابط کی بحالی کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں، جس میں پاکستان نے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے تنازعات کے پرامن حل، خودمختاری کے احترام اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق مذاکرات کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خصوصی رپورٹ پالیسی سازوں، سفارت کاروں، محققین اور ماہرین کے لیے ایک اہم تحقیقی دستاویز ثابت ہوگی۔

ڈاکٹر آمنہ خان نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی موجودہ دور میں مشرق وسطیٰ کی سیاست پر اثرانداز ہونے والی سب سے اہم جغرافیائی سیاسی پیش رفت بن چکی ہے۔ ان کے مطابق جو تنازع ابتدا میں دو ممالک کے درمیان محدود تھا، اب وہ علاقائی سلامتی، سفارت کاری، معیشت، توانائی، بحری تجارت اور عالمی سیاست پر وسیع اثرات مرتب کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلسل تنازعات، بدلتے ہوئے اتحاد، بڑھتی ہوئی جغرافیائی مسابقت اور نئے معاشی و سلامتی چیلنجز پورے خطے کے منظرنامے کو تبدیل کر رہے ہیں، جن کے اثرات عالمی سلامتی اور توانائی کی منڈیوں تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

تقریب کے اختتام پر خصوصی رپورٹ کے اہم نکات اور خطے کی بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال پر سوال و جواب اور تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر سابق وزیر خارجہ سفیر انعام الحق، ممتاز ماہر زیاد اللہ داد، معروف سائنسدان شوکت حمید خان، رپورٹ کے مصنفین، سفارت کاروں، اساتذہ، محققین، طلبہ، اسٹریٹجک کمیونٹی کے اراکین اور میڈیا نمائندگان نے بھی شرکت کی اور اپنی آراء کا اظہار کیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے