سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں جنوبی ایشیا کی وزارتی کانفرنس برائے بچوں پر تشدد کے خاتمے میں پاکستان کی جانب سے بچوں کا تحفظ سے متعلق اقدامات پیش کیے گئے۔ چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو ایم پی اے سارہ احمد نے پاکستان کی نمائندگی کی، جبکہ سیکرٹری انسانی حقوق عبد الخالق شیخ اور ڈائریکٹر جنرل انسانی حقوق محمد ارشد بھی ان کے ہمراہ تھے۔سری لنکا کی وزیر اعظم ڈاکٹر ہرینی امراسوریہ نے تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ یہ کانفرنس سارک، یونیسیف اور عالمی ادارۂ صحت کے اشتراک سے منعقد ہوئی، جس میں جنوبی ایشیا کے وزراء، سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کر کے خطے میں بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا۔اپنی پیشکش میں سارہ احمد نے پاکستان میں بچوں کا تحفظ مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں چائلڈ پروٹیکشن سسٹمز کو بہتر بنایا جا رہا ہے، بچوں کے تحفظ کی خدمات کو وسعت دی گئی ہے، مثبت تربیتِ اولاد کے پروگرام آگے بڑھائے جا رہے ہیں، آن لائن ماحول میں بچوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور بچوں کے خلاف تشدد سے متعلق قومی اسٹریٹجک ایکشن پلان بھی تیار کیا جا رہا ہے۔انہوں نے اس موقع پر وزیراعظم پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا کہ انہوں نے انہیں اس اہم علاقائی فورم میں ملک کی نمائندگی کے لیے نامزد کیا۔ ان کے مطابق پاکستان اس عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے کہ ہر بچہ محفوظ ماحول میں پروان چڑھے، اسے بنیادی تحفظ میسر ہو اور وہ اپنی صلاحیتوں کو بھرپور طور پر استعمال کر سکے۔کانفرنس میں شریک وفود نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے حکومتوں کے درمیان مسلسل رابطہ، پالیسی تعاون اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی پیش رفت کو بھی اسی تناظر میں اہم قرار دیا گیا، کیونکہ بچوں کا تحفظ خطے میں پائیدار سماجی ترقی کے لیے بنیادی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔
