پناہ کی سالانہ آگاہی واک، پاکستان میں غیر متعدی امراض کے بڑھتے ہوئے بحران کے خلاف فوری اقدامات کا مطالبہ۔

newsdesk
5 Min Read
مری میں پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کی سالانہ واک میں غیر متعدی بیماریوں، موٹاپے اور ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش ظاہر کی گئی

پناہ کی سالانہ آگاہی واک، پاکستان میں غیر متعدی امراض کے بڑھتے ہوئے بحران کے خلاف فوری اقدامات کا مطالبہ۔

41 فیصد سے زائد بالغ افراد زائد وزن یا موٹاپے کا شکار، جبکہ 3 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ پاکستانی ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

مری: پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) نے پاکستان میں غیر متعدی امراض (NCDs) کے تشویشناک حد تک بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے مری میں اپنی سالانہ ہیلتھ آگاہی واک کا انعقاد کیا۔ واک میں ماہرینِ صحت، سول سوسائٹی کے نمائندوں، صحافیوں، اساتذہ، خواتین اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ واک کی قیادت پناہ کے صدر میجر جنرل (ر) مسعود الرحمٰن کیانی نے کی جبکہ اس کی میزبانی پناہ کے جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن نے کی۔ نمایاں شرکاء میں ڈاکٹر قیوم اعوان اور ڈاکٹر شہناز بھی شامل تھے۔
میجر جنرل (ر) مسعود الرحمٰن کیانی نے کہا کہ غیر صحت مند غذائی عادات، خصوصاً الٹرا پروسیسڈ مصنوعات (Ultra-Processed Products) کے بڑھتے ہوئے استعمال، دل کے امراض اور ذیابیطس میں تیزی سے اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ صحت بخش غذا کا استعمال، باقاعدہ جسمانی سرگرمیاں اور روزانہ چہل قدمی غیر متعدی امراض کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی دل، کینسر اور بہت سی دیگر بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔ آجکل کچھ نئی تمباکو پراڈکٹس آ رہی ہیں جن کے بارے میں انڈسٹری یہ پراپیگنڈا کر رہی ہے کہ وہ نقصان دہ نہیں ہیں حالانکہ وہ بھی دیگر روایتی تمباکو پراڈکٹس کی طرح نقصان دہ ہیں ان سے بچنا چاہیے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 41 فیصد سے زائد بالغ افراد زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ 3 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ افراد ذیابیطس میں مبتلا ہیں۔ چینی، نمک، غیر صحت بخش چکنائیوں اور الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا ضرورت سے زیادہ استعمال صحتِ عامہ کے اس سنگین بحران کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے۔
ڈاکٹر شہناز نے کہا کہ عوامی صحت کا تحفظ قومی ترجیحات میں سرفہرست رہنا چاہیے۔ انہوں نے صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ اور آگاہی مہمات کے ذریعے بیماریوں کی روک تھام کے لیے پاناہ کی مسلسل کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ والدین اور تعلیمی اداروں کو مل کر بچوں اور نوجوانوں میں صحت مند غذائی عادات کو فروغ دینا چاہیے۔

ڈاکٹر قیوم اعوان نے کہا کہ صحت بخش غذا تک رسائی ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بچپن میں ناقص غذائی عادات مستقبل
میں موٹاپے، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کرتی ہیں۔ انہوں نے خاندانوں پر زور دیا کہ وہ بچوں کی صحت مند نشوونما کے لیے غذائیت سے بھرپور خوراک اور جسمانی سرگرمیوں کو ترجیح دیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ثناء اللہ گھمن نے کہا کہ پناہ گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے سے عوامی آگاہی، تحقیق، وکالت اور پالیسی سازی میں مؤثر شمولیت کے ذریعے پاکستانیوں کو دل کے امراض اور دیگر غیر متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹھے مشروبات اور الٹرا پروسیسڈ مصنوعات کے استعمال میں کمی، جسمانی سرگرمیوں کے فروغ اور صحت مند طرزِ زندگی کو اپنانا آنے والی نسلوں کی صحت کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے پالیسی سازوں، میڈیا، ماہرینِ تعلیم، سول سوسائٹی اور والدین پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں غیر متعدی امراض کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔

واک کے شرکاء نے ملک بھر میں صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ اور غیر متعدی بیماریوں کی روک تھام کے حوالے سے عوامی آگاہی بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے