کوئٹہ: اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے جرمن حکومت کی مالی معاونت اور حکومت بلوچستان کے اشتراک سے ضلع کوئٹہ کے علاقے ہنہ اُورک میں 2022 کے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے حوالے موسمیاتی اور قدرتی آفات سے محفوظ جدید مکانات کر دیے۔
مکانات کی حوالگی کی تقریب فلڈ ری کنسٹرکشن اینڈ کوآرڈینیشن پروگرام (FRCP) کے تحت ایک اہم سنگ میل قرار دی جا رہی ہے، جس کے ذریعے یو این ڈی پی بلوچستان میں مجموعی طور پر 700 موسمیاتی اور قدرتی آفات سے محفوظ مکانات تعمیر کر رہا ہے۔ ان گھروں کو مستقبل میں سیلاب اور دیگر موسمی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے خصوصی انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ رہائش فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی آئندہ آفات کے مقابلے میں کمزوری بھی کم کی جا سکے۔
تقریب میں بلوچستان میں جرمنی کے اعزازی قونصل میر مراد بلوچ، یو این ڈی پی پاکستان کے ریذیڈنٹ نمائندہ ڈاکٹر سیموئل رزق، ڈپٹی ریذیڈنٹ نمائندہ وان نگوئین اور حکومت بلوچستان کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ شرکاء میں سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ زیشان جاوید، سیکریٹری امپلیمنٹیشن عثمان خالد، پی ڈی ایم اے بلوچستان کے ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ کوآرڈینیشن نوید احمد شیخ، اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ یوسف ہاشمی اور مقامی کمیونٹی کے افراد بھی شامل تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں جرمنی کی سفیر اینا لیپل نے کہا کہ جرمنی پاکستان میں بحالی اور پائیداری کے اقدامات کی مسلسل حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا:
"آج ہم صرف گھروں کا افتتاح نہیں کر رہے بلکہ بحالی اور مضبوط مستقبل کی جانب ایک عملی قدم کا جشن منا رہے ہیں۔ فلڈ ری کنسٹرکشن اینڈ کوآرڈینیشن پروگرام کے ذریعے جرمن ترقیاتی تعاون اور یو این ڈی پی نہ صرف فوری تعمیرِ نو میں مدد فراہم کر رہے ہیں بلکہ مستقبل کے لیے مضبوط اداروں کی تشکیل میں بھی معاون ثابت ہو رہے ہیں۔”
حکومت بلوچستان کی جانب سے سیکریٹری پلاننگ زیشان جاوید نے اس منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو درپیش ترقیاتی اور بحالی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت، ترقیاتی شراکت داروں اور مقامی آبادی کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا:
"بلوچستان کو درپیش مسائل کی نوعیت ایسی ہے کہ تمام متعلقہ فریقین کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ یہ منصوبہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ باہمی اشتراک کے ذریعے کس طرح کمزور اور متاثرہ طبقات کی مدد کرتے ہوئے صوبے کے لیے زیادہ مضبوط اور پائیدار مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔”
نئے تعمیر شدہ مکانات کو جدید انجینئرنگ اصولوں کے مطابق سیلاب سے محفوظ، زلزلہ مزاحم اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا گیا ہے۔ 2022 کے سیلاب میں اپنے گھر کھو دینے والے خاندانوں کے لیے یہ منصوبہ نہ صرف محفوظ اور باوقار رہائش کی فراہمی ہے بلکہ ان کے لیے امید اور اعتماد کی نئی کرن بھی ثابت ہو رہا ہے۔
یو این ڈی پی پاکستان کے ریذیڈنٹ نمائندہ ڈاکٹر سیموئل رزق نے کہا کہ بحالی کا عمل صرف کھوئی ہوئی چیزوں کی جگہ نئی تعمیرات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ مستقبل کے خطرات کو کم کرنے اور کمیونٹیز کو مزید مضبوط بنانے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا:
"جرمن حکومت کی مالی معاونت، کے ایف ڈبلیو ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون اور حکومت بلوچستان کے اشتراک سے یو این ڈی پی اس امر کو یقینی بنا رہا ہے کہ تعمیرِ نو کے یہ اقدامات طویل المدتی پائیداری اور دیرپا ترقی کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ سیلاب کے بعد کی بحالی کے روایتی ماڈل سے آگے بڑھتے ہوئے شراکت داری اور خطرات کے پیشگی ادراک پر مبنی تعمیرِ نو کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد انسانی جانوں کا تحفظ، ترقیاتی کامیابیوں کا تسلسل اور زیادہ مضبوط و محفوظ کمیونٹیز کی تشکیل ہے۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور متاثرہ آبادی کی بحالی کے لیے بین الاقوامی تعاون اور مقامی شراکت داری کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
