سینیٹ سیکرٹریٹ کا معلومات تک رسائی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے جامع طریقہ کار جاری
اسلام آباد: سینیٹ سیکرٹریٹ نے معلومات تک رسائی کے حق سے متعلق درخواستوں کی وصولی اور نمٹانے کے لیے ایک جامع اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) جاری کر دیا ہے، جس کا مقصد شفافیت، جوابدہی اور شہریوں کو سرکاری معلومات تک بروقت رسائی فراہم کرنا ہے۔ یہ اقدام حقِ معلومات تک رسائی ایکٹ 2017ء کے تحت اٹھایا گیا ہے اور اس کے ذریعے معلومات کے حصول کے تمام مراحل کو باقاعدہ اور منظم شکل دی گئی ہے۔
سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق معلومات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، جس کی ضمانت آئین پاکستان کے آرٹیکل 19-اے اور بین الاقوامی قوانین میں دی گئی ہے۔ ایس او پی کے تحت ہر شہری کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات حاصل کرنے کا حق حاصل ہوگا، تاہم یہ حق قانون میں موجود معقول پابندیوں کے تابع ہوگا۔
نئے طریقہ کار کے مطابق معلومات کے حصول کے لیے درخواست تحریری صورت میں ذاتی طور پر، ڈاک، ای میل، فیکس یا آن لائن جمع کرائی جا سکے گی۔ درخواست مقررہ فارم پر دی جائے گی اور اس میں زیادہ سے زیادہ پانچ سوالات شامل کیے جا سکیں گے۔ درخواست گزار کو معلومات طلب کرنے کی کوئی وجہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ایس او پی کے تحت نامزد پبلک انفارمیشن آفیسر درخواست وصول کرنے کے بعد اس کا اندراج مرکزی رجسٹر میں کرے گا، درخواست کی وصولی کی تصدیق جاری کرے گا اور معلومات کی فراہمی تک پورے عمل کی نگرانی کرے گا۔ تمام درخواستوں، فیسوں، استثنائی شقوں اور مسترد کیے جانے کی وجوہات کا ریکارڈ دستی اور ڈیجیٹل دونوں صورتوں میں محفوظ رکھا جائے گا۔
طریقہ کار کے مطابق درخواست موصول ہونے کے بعد تین ورکنگ دنوں کے اندر اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ اگر درخواست قابلِ قبول ہو تو مقررہ فیس وصول کرکے معلومات فراہم کی جائیں گی، جبکہ معلومات دینے سے انکار کی صورت میں سیکریٹری یا چیئرمین سینیٹ سے منظوری حاصل کی جائے گی۔ منظوری کے بعد ایک دن کے اندر مطلوبہ معلومات فراہم کی جائیں گی اور ساتھ مستند تصدیقی سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا جائے گا۔
ایس او پی میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی معاملے میں وسیع تحقیق یا اضافی کارروائی درکار ہو تو جواب دینے کی مدت میں مزید دس دن کی توسیع کی جا سکتی ہے۔ تاہم ایسے معاملات جو کسی فرد کی جان یا آزادی سے متعلق ہوں، ان پر ترجیحی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے تین ورکنگ دنوں کے اندر جواب دینا لازم ہوگا۔
درخواست گزار اگر فراہم کردہ معلومات یا انکار سے مطمئن نہ ہو تو وہ پاکستان انفارمیشن کمیشن میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔ کمیشن کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ متعلقہ افسران کو طلب کرے اور معلومات فراہم نہ کرنے یا جزوی معلومات دینے کی وجوہات طلب کرے۔
ایس او پی کے تحت سینیٹ سیکرٹریٹ کی ویب سائٹ پر معلومات کی پیشگی فراہمی، متعلقہ شعبوں کو درخواستوں کی بروقت ترسیل، ریکارڈ کی مؤثر دیکھ بھال اور درخواست گزاروں کو مصدقہ نقول کی فراہمی کے لیے بھی تفصیلی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
درخواست گزار کے لیے نام، قومی شناختی کارڈ نمبر، پیشہ، رابطہ معلومات اور مکمل پتہ فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ فیس، درخواست جمع کرانے اور معلومات کے استعمال سے متعلق قواعد بھی واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں، جن کے مطابق حاصل کردہ معلومات کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا اور پیشگی اجازت کے بغیر فروخت یا تقسیم نہیں کیا جا سکے گا۔
سینیٹ سیکرٹریٹ کے اس اقدام کو ادارہ جاتی شفافیت، معلومات تک رسائی کے نظام کو مضبوط بنانے اور شہریوں کو ان کے آئینی حقوق سے مؤثر طور پر مستفید کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طریقہ کار سے تاخیر، غیر ضروری رکاوٹوں اور انتظامی بے ضابطگیوں میں کمی آئے گی جبکہ پارلیمانی اداروں پر عوامی اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
