ڈاکٹروں اور طبی عملے کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر قرار
اسلام آباد: ملک بھر میں ڈاکٹروں، نرسوں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر طبی کارکنوں کے خلاف بڑھتے ہوئے ہراسانی، بدسلوکی اور تشدد کے واقعات پر طبی ماہرین، اسپتال انتظامیہ، میڈیکل ایسوسی ایشنز اور صحت کے شعبے سے وابستہ دیگر اہم حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز اور صحت کے شعبے سے وابستہ کارکنان انتہائی مشکل حالات میں مریضوں کی جانیں بچانے اور بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے شب و روز خدمات انجام دیتے ہیں، تاہم ان کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور ناروا سلوک کے واقعات نہ صرف ان کے حوصلے کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ صحت کے پورے نظام اور مریضوں کی دیکھ بھال پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر رفیع شیر اور دیگر طبی و سماجی شعبوں کے نمائندوں کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ صحت کے کارکنوں کی حفاظت، عزت اور پیشہ ورانہ وقار کو قومی ترجیح قرار دیا جانا چاہیے۔ ڈاکٹرز، نرسیں، پیرا میڈکس اور دیگر طبی عملہ محدود وسائل اور شدید دباؤ کے باوجود عوام کی خدمت میں مصروف ہیں۔
بیان میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اسپتالوں اور طبی مراکز میں تشدد اور ہراسانی کے خلاف سخت اور مؤثر قوانین نافذ کیے جائیں، سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے، فوری ردعمل کے نظام قائم کیے جائیں اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
ڈاکٹر رفیع شیر نے کہا کہ کوئی بھی طبی پیشہ ور اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے وقت اپنی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے خوف کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ طبی عملے کے خلاف حملے صرف افراد کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ عوام کے صحت کے نظام پر اعتماد کو بھی مجروح کرتے ہیں اور مریضوں کی دیکھ بھال کے عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
مشترکہ بیان میں اس امر پر زور دیا گیا کہ طبی کارکنوں کا تحفظ دراصل مریضوں کے تحفظ کے مترادف ہے۔ ایک محفوظ، باوقار اور پُرامن طبی ماحول نہ صرف صحت کے شعبے کو مضبوط بناتا ہے بلکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
بیان کے اختتام پر حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، طبی اداروں، سول سوسائٹی اور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ صحت کے شعبے میں احترام، اعتماد اور تحفظ کے فروغ کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں تاکہ طبی عملہ بلا خوف و خطر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے سکے۔
