اسلام آباد، جون 2026۔ پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے وفاقی بجٹ 2026-27 میں ٹھوس اور مائع انتہائی پروسیس شدہ غذاؤں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی درخواست صدر آصف علی زرداری کے دفتر نے وزارتِ خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو باقاعدہ طور پر بھیج دی۔ یہ قدم تنظیم کی طویل مدتی صحت عامہ کی مہم کے تسلسل میں آیا ہے اور اس درخواست کو ایوانِ صدر (پبلک) نے متعلقہ حکام کے نوٹس کے لیے منتقل کیا۔درخواست پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے صدر ریٹائرڈ میجر جنرل ڈاکٹر مسعود الرحمان کیانی کی طرف سے جمع کرائی گئی تھی۔ صدرِ مملکت کے سیکریٹریٹ نے اس درخواست کو قانون اور ضوابط کے مطابق سیکریٹری وزارتِ خزانہ اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ارسال کر کے ضروری کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ریٹائرڈ میجر جنرل ڈاکٹر مسعود الرحمان کیانی نے اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عوامی صحت کے تحفظ کے لیے اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی پروسیس شدہ غذائیں لاکھوں پاکستانیوں کی صحت کے لیے خطرہ ہیں اور بجٹ میں مناسب ٹیکس شقیں شامل کر کے ان کے استعمال کو محدود کیا جا سکتا ہے۔پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن نے صدر کے اس بروقت ردعمل پر اظہارِ تشکر کیا اور حکام پر زور دیا کہ وہ تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے وفاقی بجٹ 2026-27 میں انتہائی پروسیس شدہ غذاؤں پر معنی خیز ٹیکس اقدامات شامل کریں۔ تنظیم کے مطابق مالیاتی پالیسی کے ذریعے صحت کے لیے نقصان دہ مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کر کے عوامی فائدہ ممکن ہے۔ایوانِ صدر کی جانب سے درخواست کی منتقلی کو ماہرین اور عوامی صحت کے علم بردار ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن اس معاملے میں مزید شفاف اور بروقت فیصلہ چاہتی ہے تاکہ انتہائی پروسیس شدہ غذائیں کم استعمال ہوں اور عوامی صحت بہتر ہو سکے۔
صدر زرداری نے انتہائی پروسیس شدہ غذاؤں کے ٹیکس کی درخواست آگے بھیجی
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
