چیئرمین سینیٹ نے عیدگاہ شریف کے سالانہ عرس میں خطاب

newsdesk
4 Min Read
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے عیدگاہ شریف میں خطاب کرتے ہوئے سیرت النبی اور اولیاء کے پیغام کو ملکی و عالمی چیلنجز کے حل کے طور پر پیش کیا۔

سید یوسف رضا گیلانی نے راولپنڈی کے مشہور روحانی مرکز عیدگاہ شریف میں منعقدہ سالانہ عرس کے موقع پر علماء، صوفی بزرگ، پیروکاروں اور معزز مہمانوں سے خطاب میں اس ادارے کے طولانی فکری اور سماجی خدمات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ عیدگاہ شریف محض ایک عبادتی مقام نہیں بلکہ اسلام کی خدمت، معاشرتی اصلاح اور اخلاقی رہنمائی کا ایک تاریخی ادارہ ہے جس نے ڈیڑھ صدی سے زائد عرصے تک انسانیت کیلئے مثبت پیغام پہنچایا ہے۔چیئرمین سینیٹ نے عیدگاہ شریف کے بانی بزرگ خوجہ حافظ عبدالکریم مرحوم، ان کے بعد آنے والے حضرات حافظ عبدالرحمٰن مرحوم اور خوجہ حافظ حبیب الرحمان مرحوم کو خراج تحسین پیش کیا اور موجودہ سجادہ نشین حضرت پیر محمد نقیب الرحمان دامت برکاتہم اور ان کے جانشین حضرت پیر محمد حسن حسیب الرحمان دامت برکاتہم کی خدمات کا اعتراف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سلسلہ عالیہ صدیقیا نقشبندیہ کے لاکھوں پیروکار دنیا بھر میں عیدگاہ شریف سے منسلک ہیں اور برطانیہ، امریکہ، یورپ اور خلیجی ممالک میں بھی ان کی تبلیغی کا دائرہ موجود ہے۔تقریب میں فرمایا گیا کہ اولیاء کرام نے اپنی عملی زندگیوں سے ثابت کیا کہ سیرت النبی جغرافیائی سرحدوں سے بالاتر ایک عالمی پیغام ہے جو ہدایت، ہمدردی، رواداری اور انسانیت کی خدمت کی تلقین کرتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ تعلیمات دشمنی کے مقابلے میں مکالمہ، ظلم کے مقابلے میں انصاف، اور محض اقتصادی ترقی کے بجائے انسانی وقار اور اجتماعی بہبود کو ترقی کا پیمانہ قرار دیتی ہیں۔ انہوں نے مدینہ کے آئین کو ان اقدار کا عملی نمونہ قرار دیا جو انصاف، مساوات، مذہبی آزادی، اقلیتوں کے تحفظ اور اجتماعی ذمہ داری کی بنیاد رکھتا ہے۔موجودہ دور کے مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے بتایا کہ پاکستان میں معاشی دباؤ، سماجی ناہمواریاں اور بے روزگاری جیسے چیلنجز کا مقابلہ بھی سیرتِ طیبہ کے اصولوں سے بہتر طریقے سے کیا جا سکتا ہے، جن میں شفافیت، دیانت، انصاف، محنت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکمرانی کا مقصد اقتدار کا استعمال نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی ہونا چاہیے۔عالمی منظرنامے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج انسانیت جنگ، انسانی ہمدردی کے بحران، بڑھتی ہوئی عدم مساوات، مذہبی و نسلی تعصب، زبردستی نقل مکانی، غربت اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے اور ایسے حالات میں سیرت النبی ایک جامع رہنمائی پیش کرتی ہے جو بقا، پائیدار امن اور عالمی ہم آہنگی کے راستے دکھاتی ہے۔چیئرمین سینیٹ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اولیاء کرام کی سرزمین ہے اور ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ نوجوان نسل میں رواداری، اعتدال، انسانیت کے لیے احترام اور معاشرتی خدمت کے اصول پروان چڑھائے جائیں تاکہ ایک مضبوط، ترقی پسند اور اخلاقی بنیادوں پر قائم قوم تشکیل پاسکے۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ محبت کو نفرت پر، اتحاد کو انتشار پر اور امید کو مایوسی پر فوقیت دیں اور اپنے فرد اور اجتماعی کردار میں سیرت النبی کے پیغام کو اپنائیں۔خطاب کے اختتام پر انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی ہم سب کو سیرتِ طیبہ کی روشنی سے اپنے اعمال کو منور کرنے، اولیاء کرام کی رہنمائی سے فیض یاب ہونے اور انصاف، ہمدردی اور بھائی چارے کے اعلیٰ اصولوں پر مبنی معاشرہ قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے