پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن نے سول ہسپتال کوئٹہ میں لیڈی ڈاکٹر پر ہوئے تیزاب حملے کی سخت مذمت کی اور اس واقعے کو ملک کے صحت نظام کے لیے تشویشناک قرار دیا۔ پیما کے مرکزی صدر پروفیسر عاطف حفیظ صدیقی نے کہا کہ نفرت آمیز بیانیہ اور سوشل میڈیا پر ہونے والے ٹرائل ایسے واقعات کو ہوا دے رہے ہیں جو طبی کارکنوں کی حفاظت کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں جہاں ملک کو پہلے ہی ڈاکٹروں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور طبی عملہ محدود وسائل اور غیر محفوظ ماحول میں خدمات سرانجام دے رہا ہے، ایسے افسوسناک واقعات نہ صرف ڈاکٹروں کے حوصلے پست کرتے ہیں بلکہ مجموعی طور پر صحت کا نظام کمزور ہوتے جا رہا ہے۔ نفرت آمیز بیانیہ عوامِ رائے کو متاثر کر کے تشدد اور ہراسانی کے واقعات کو فروغ دیتا ہے، جو طبی خدمات کی فراہمی کے لیے خطرہ ہے۔اسلام آباد میں پیما کے دو روزہ مرکزی ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس میں قومی سطح پر جاری سرگرمیوں، پیشہ ورانہ تربیت، تنظیمی امور اور صحت عامہ سے متعلق آگاہی مہمات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اندرون و بیرونِ ملک میڈیکل ریلیف پروجیکٹس بشمول غزہ کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اجلاس کی نظامت مرکزی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر احمد سلمان غوری نے کی جبکہ معاونت مرکزی نائب صدر پروفیسر محمد طیب نے کی۔پیما نے ڈاکٹر ماہ نور اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور ڈاکٹرز اور طبی عملے کے تحفظ کے لیے ملک بھر کے ہسپتالوں میں فوری اور موثر حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ محض مذمتی بیانات اور رسمی کارروائیاں اب قابل قبول نہیں، تنظیم نے واضح کیا کہ عملی اقدامات ہی ڈاکٹروں کی حفاظت کو یقینی بنا سکتے ہیں۔مرکزی رہنماؤں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے تشدد، ہراسانی، دھمکیاں اور بے بنیاد الزامات ایک خطرناک رجحان اختیار کر چکے ہیں اور اس رجحان کا سدِ باب نہ کیا گیا تو صحت کے نظام پر اس کے دیرپا منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ نفرت آمیز بیانیہ کے خلاف شعور و آگاہی کی مہمات، ہسپتالوں میں حفاظتی نظام کی مضبوطی اور قانون کے تحت فوری کاروائی کو اپنانا لازم قرار دیا گیا۔
