اسلام آباد میں سرینا ہوٹل پر 4 جون 2026 کو منعقدہ تقریب میں یو ٹی او ایکسپریس اور ایچ آر ایل گروپ کی مشترکہ لاگسٹکس کمپنی نے باقاعدہ آغاز کیا، جو گزشتہ سال بیجنگ میں وزیرِ اعظم کی موجودگی میں دئیے گئے وعدے کو عملی صورت دے رہی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزراء اور وسطی ایشیائی ممالک کے مندوبین کی موجودگی نے اس اقدام کی اہمیت کو واضح کیا۔یہ لاگسٹکس شراکت دو قوتوں کو ایک ساتھ لاتی ہے: یو ٹی او ایکسپریس اپنی عالمی ربط، جدید ٹیکنالوجی اور کٹوتی رفتار تقسیم کے تجربے کے ساتھ شراکت میں شامل ہے جبکہ ایچ آر ایل گروپ پاکستان میں اپنی وسیع زمینی موجودگی، مارکیٹ کی گہری سمجھ اور انفراسٹرکچر کے باعث تیز اسکیل اپ کرنے کے قابل ہے۔ اس جوائنٹ وینچر کا مقصد ملک کے اندر اور خطے میں سامان کی نقل و حمل کو تیز، سستا اور موثر بنانا ہے۔نئی کمپنی سے فوری ترسیل، آن لائن تجارت کی تکمیل، جدید گودامکاری، سامان کی نقل و حمل اور پوری چین سے لے کر حتمی صارف تک سپلائی چین خدمات متعارف ہوں گی۔ اس عمل کے ذریعے جدید آپریٹنگ معیارات کی منتقلی، ہزاروں ہنر مند ملازمتوں کے مواقع اور مقامی کاروباروں کو بلند معیار کی لاجسٹک سہولیات میسر آئیں گی۔اس منصوبے کا دائرہ صرف اندرونی بازار تک محدود نہیں؛ اس کا واضح علاقائی وژن ہے۔ مرکزی ایشیائی بازاروں کو سمندر تک رسائی دلانے کے لیے پاکستان کو ایک قدرتی راستہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تقریب میں تاجکستان، اندونیشیا، ایران، ازبکستان، ترکمانستان، قازقستان اور آذربائیجان سمیت دس ملکوں کے سفیروں نے شرکت کی اور ازبکستان کے سفیر علیشیر تختائف، آذربائیجان کے سفیر خضر فرہادوف اور قازقستان کے مندوب یرزھان کیستافن نے اس موقع پر اپنے تاثرات پیش کیے۔زاہد رفیق نے کہا کہ یہ منصوبہ محض کاروباری معاہدہ نہیں بلکہ پاکستان اور چین کے درمیان اعتماد اور دوستی کا عکاس ہے اور ایچ آر ایل گروپ نے ہمیشہ طویل مدتی اور قومی مفاد کو مقدم رکھا ہے۔ جہانزیب زاہد نے بتایا کہ مفاہمت نامے سے عملی شروعات تک کا سفر دونوں پارٹنرز کی سنجیدگی اور مشترکہ عزم کی دلیل ہے اور وہ معمولی بہتریوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ملک میں لاگسٹکس کے نئے معیارات قائم کریں گے۔رچرڈ ہو نے وضاحت کی کہ پاکستان ایک پرکشش نمو کا بازار ہے اور یو ٹی او اپنی عالمی نیٹ ورکنگ، ٹیکنالوجی اور آپریٹنگ مہارت اس ملک میں لانا چاہتا ہے۔ ان کے بقول یہ طویل المدتی عزم ہے اور شروعات تو ہو چکی ہے۔حالیہ آغاز کے ساتھ یہ مشترکہ لاگسٹکس منصوبہ اب مکمل طور پر عملی شکل اختیار کر رہا ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی ملک بھر میں خدمات کا دائرہ وسیع ہوگا، جس سے تاجروں، آن لائن کاروباروں اور صارفین کو تیز اور قابلِ اعتماد ترسیلی سہولیات میسر آئیں گی اور پاکستان خطّے کی تجارت میں ایک مرکزی ہب کے طور پر ابھرے گا۔
