نجی پروموٹرز ایجنٹس کے ہاتھوں اوورسیز پاکستانیوں کا استحصال، جائیدادوں پر قبضوں کے مسائل بھی سنگین
ندیم تنولی
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تفصیلات نے اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش سنگین مسائل کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں نجی اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز (او ای پیز) کے ذریعے استحصال اور جائیدادوں پر غیر قانونی قبضے نمایاں ہیں۔ سینیٹر نتاشہ دولتانہ نے نشاندہی کی کہ بیرون ملک روزگار کے مواقع کا ایک بڑا حصہ اب بھی نجی او ای پیز کے ذریعے فراہم کیا جا رہا ہے، جس کے باعث پاکستانی کارکن غیر قانونی فیسوں، گمراہ کن معاہدوں اور جعلی بھرتی کے طریقہ کار کا شکار ہو رہے ہیں، حالانکہ حکومت امیگریشن آرڈیننس 1979 کے تحت نگرانی کر رہی ہے۔
وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل ترقی چوہدری سالک حسین نے ایوان کو بتایا کہ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ لائسنس یافتہ او ای پیز کو ریگولیٹ کرتا ہے تاکہ افرادی قوت کی قانونی برآمد کو یقینی بنایا جا سکے، تاہم غیر مجاز سب ایجنٹس اب بھی سرگرم ہیں اور ہزاروں افراد کو خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (او ای سی) کے ذریعے سرکاری سطح پر بھرتیوں میں اضافہ کیا ہے۔ سعودی عرب میں پاکستانی کارکنوں کی تعیناتی 2024 میں 4 لاکھ 52 ہزار 562 سے بڑھ کر 2025 میں 5 لاکھ 30 ہزار 256 ہو گئی۔ جاپان میں آئی ٹی، مینوفیکچرنگ، صحت اور تکنیکی شعبوں میں تعیناتیاں 1,518 سے بڑھ کر 2,210 تک پہنچ گئیں۔ اسی طرح اٹلی کے "ڈیکریٹو فلوسی” پروگرام کے تحت 2026 سے 2028 تک زراعت، تعمیرات، صحت، مہمان نوازی، لاجسٹکس اور آئی سی ٹی کے شعبوں میں پاکستانیوں کے لیے 10,500 کوٹے مختص کیے گئے ہیں۔
قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ اس وقت بیرون ملک روزگار کی مجموعی طلب تقریباً 1 لاکھ 40 ہزار 688 آسامیوں پر مشتمل ہے، جن میں سے 1 لاکھ 33 ہزار 730 نجی او ای پیز جبکہ 6 ہزار 958 او ای سی کے ذریعے دستیاب ہیں۔
استحصال کی روک تھام کے لیے حکومت نے سخت لائسنسنگ، معائنہ اور نگرانی کے نظام نافذ کیے ہیں، جن میں ویزوں اور ملازمت سے متعلق دستاویزات کی تصدیق، ڈیمانڈ لیٹرز کی جانچ، بیرون ملک پاکستانی مشنز سے رابطہ اور خلاف ورزیوں پر ایف آئی آرز کا اندراج، لائسنس منسوخی، سیکیورٹی رقوم کی ضبطی اور متاثرہ افراد کو رقوم کی واپسی شامل ہے۔
حکومت عوامی آگاہی مہمات بھی چلا رہی ہے تاکہ شہریوں کو قانونی بھرتی ذرائع، غیر قانونی ہجرت کے خطرات اور محفوظ امیگریشن کے طریقہ کار سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ مربوط مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایم آئی ایس)، بائیومیٹرک تصدیق، کمپیوٹرائزڈ امیگریشن کلیئرنس اور آن لائن شکایتی نظام بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ بیرون ملک روزگار کے پورے عمل کی نگرانی کی جا سکے۔
اجلاس میں اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قبضوں کے بڑھتے ہوئے مسائل بھی زیر بحث آئے۔ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (او پی ایف) نے شکایات کے ازالے کے لیے آن لائن کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم (او سی ایم ایس) قائم کیا ہے، جسے پاکستان سٹیزن پورٹل سے منسلک کیا گیا ہے۔
اس نظام کے ذریعے 6 ہزار 285 محکموں کے 11 ہزار 223 افسران، جن میں 86 سفارت خانے، ہائی کمیشنز اور قونصل خانے شامل ہیں، شکایات کے ازالے کے عمل سے منسلک ہیں۔ جائیدادوں پر قبضوں سے متعلق کیسز متعلقہ ہاؤسنگ اتھارٹیز، ضلعی انتظامیہ، ریونیو محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھجوائے جاتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے پنجاب پولیس، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب، کرمنل کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور بورڈ آف ریونیو پنجاب سمیت مختلف ادارے کام کر رہے ہیں۔
اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں کے تنازعات کے فوری حل کے لیے خصوصی عدالتیں بھی قائم کی گئی ہیں۔ اسلام آباد میں اسپیشل کورٹ (اوورسیز پاکستانیز پراپرٹی) ایکٹ 2024 کے تحت ہائی کورٹ کے بینچز اور مشرقی و مغربی اضلاع کے خصوصی ججز کام کر رہے ہیں۔ پنجاب نے اسپیشل کورٹس ایکٹ 2025 نافذ کر کے تمام اضلاع میں ججز مقرر کر دیے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا نے متعلقہ مسودۂ قانون منظوری کے لیے ارسال کر دیا ہے۔ بلوچستان نے قانون تو منظور کر لیا ہے تاہم ججز کی تقرری باقی ہے، جبکہ سندھ میں اس حوالے سے مجوزہ بل وزیر اعلیٰ کی سطح پر زیر غور ہے۔
Copied from: Overseas Pakistanis exploited by private job promoters while their properties face encroachment

