عالمی کانفرنس میں پاکستان کے امن کردار کو سراہا گیا، ایران جنگ میں امریکہ۔اسرائیل کی ناکامی نئے عالمی نظام کے لیے مثبت پیش رفت ہے: مشاہد حسین

newsdesk
5 Min Read
سینیٹر مشاہد حسین نے سکوپجے میں منعقدہ کانفرنس میں پاکستان کے ثالثی کردار کو اجاگر کیا اور ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں پیشرفت پر تبصرہ کیا۔

عالمی کانفرنس میں پاکستان کے امن کردار کو سراہا گیا، ایران جنگ میں امریکہ۔اسرائیل کی ناکامی نئے عالمی نظام کے لیے مثبت پیش رفت ہے: مشاہد حسین

اسکوپیے (شمالی مقدونیہ): سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ایران جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی ناکامی ایک ابھرتے ہوئے نئے عالمی نظام کے لیے خوش آئند علامت ہے، کیونکہ اس سے ثابت ہوا کہ ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔

شمالی مقدونیہ کے دارالحکومت اسکوپیے میں عالمی کونسل برائے برداشت و امن (GCTP) کے زیر اہتمام منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے پاکستان کے امن کے لیے کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکرات کے فروغ میں ایک غیر جانبدار اور مخلص ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔

کانفرنس میں یورپ، ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکہ کے 22 ممالک سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی رہنماؤں، دانشوروں، تھنک ٹینک نمائندوں اور رائے ساز شخصیات نے شرکت کی، جبکہ تنزانیہ اور مالٹا کے اسپیکرز بھی موجود تھے۔

کانفرنس کے موقع پر سینیٹر مشاہد حسین سید نے شمالی مقدونیہ کی صدر گوردانا داوکووا سے ملاقات کی۔ صدر گوردانا داوکووا نے ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری میں پاکستان کے اہم کردار کو سراہتے ہوئے اس کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی کونسل برائے برداشت و امن کے صدر اور سابق عرب پارلیمنٹ اسپیکر احمد بن محمد الجروان نے خلیجی خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور ایران۔امریکہ امن مذاکرات کے انعقاد کے لیے پاکستان کی کاوشوں کی بھرپور تعریف کی۔

اپنے خطاب میں سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک تاریخی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے جہاں بے یقینی اور تبدیلی ایک ساتھ رونما ہو رہی ہیں، جبکہ ایران جنگ نے مغرب کے زیر قیادت عالمی نظام کے زوال کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا کی تقسیم اور کمزوری اب ایک ناقابل واپسی حقیقت بن چکی ہے، کیونکہ مغرب کے زیر اثر عالمی نظام نے عالمی جنوب کے ممالک کے حوالے سے ہمیشہ دوہرے معیار اور منافقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقت کے زور پر دنیا چلانے کا تصور دم توڑ رہا ہے۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے کانفرنس کے شرکاء کو ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کے کردار سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ امن کا راستہ اب قریب ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں مثبت پیش رفت متوقع ہے۔

انہوں نے چین کے عروج کو ناقابلِ روک قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ دورۂ چین دراصل امریکہ کی تجارتی اور ٹیرف جنگ میں ناکامی کے بعد ممکن ہوا، اور اب واشنگٹن نے چین کو ایک مساوی شراکت دار کے طور پر تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کے مطابق سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں چین امریکہ پر سبقت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مشاہد حسین سید نے شمالی مقدونیہ کی دو عظیم شخصیات، سکندر اعظم اور مدر ٹریسا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان دونوں کا جنوبی ایشیا سے گہرا تعلق رہا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ستمبر 1997 میں وہ مدر ٹریسا کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے پاکستانی وفد کے سربراہ کی حیثیت سے کلکتہ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی پر یقین رکھتا ہے اور مسیحی برادری سمیت تمام غیر مسلم شہریوں کی ملکی ترقی میں خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے