اعلیٰ تعلیم مالی بحران کا شکار، جامعات اور اساتذہ کے مسائل فوری حل کیے جائیں: فاپواسا

newsdesk
4 Min Read
وفاقی اساتذہ تنظیم نے حکومت سے جامعات کے مالی بحران، تنخواہ نظر ثانی، ٹیکس ریلیف اور بی پی ایس پر یکساں پالیسی کی فوری منظوری کا مطالبہ کر دیا

اعلیٰ تعلیم مالی بحران کا شکار، جامعات اور اساتذہ کے مسائل فوری حل کیے جائیں: فاپواسا

پاکستان بھر کی سرکاری جامعات کے اساتذہ اور محققین کی نمائندہ تنظیم فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز (فاپواسا) نے ملک میں اعلیٰ تعلیم کو درپیش سنگین مسائل کے فوری حل کے لیے صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور وفاقی وزیر خزانہ کو ایک کھلا خط ارسال کیا ہے۔

فاپواسا نے اپنے قیام سے اب تک اعلیٰ تعلیم کے فروغ، اساتذہ کے حقوق کے تحفظ، تعلیمی اداروں کے استحکام اور تحقیق و جدت کے فروغ کے لیے مسلسل کردار ادا کیا ہے۔

فاپواسا کے وفاقی صدر پروفیسر ڈاکٹر عامر علی نے اپنے خط میں حکومت پر زور دیا ہے کہ پاکستان کی جامعات کو درپیش مالی اور انتظامی چیلنجز کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ ان کے مطابق یہ مسائل تدریسی معیار، تحقیقی سرگرمیوں، اساتذہ کی برقراری اور مجموعی طور پر اعلیٰ تعلیم کے معیار کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے بجٹ میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ جامعات، تحقیق، وظائف، تجربہ گاہوں اور تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جا سکے۔ فاپواسا کے مطابق اعلیٰ تعلیم کا بجٹ مالی سال 2018-2017 سے 65 ارب روپے پر جمود کا شکار ہے، حالانکہ اس عرصے میں سرکاری جامعات کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس لیے جاری اور ترقیاتی دونوں بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ ناگزیر ہے۔

فاپواسا نے ملک بھر میں ٹینیور ٹریک نظام کے تحت خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی تنخواہوں میں طویل عرصے سے زیر التوا اضافے کی فوری منظوری اور نوٹیفکیشن کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ فریقین کے درمیان طے شدہ فارمولے کے مطابق اس معاملے کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ ساتھ ہی ٹینیور ٹریک اساتذہ کے لیے مکمل وفات مراعات اور سماجی تحفظ کے مؤثر نظام کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے تاکہ ان کے اہل خانہ کو مالی تحفظ حاصل ہو سکے۔

تنظیم نے یونیورسٹی اساتذہ اور محققین کے لیے ٹیکس ریبیٹ کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ قومی ترقی، تحقیق اور افرادی قوت کی تیاری میں نمایاں کردار ادا کرنے والے اساتذہ کو پہلے 75 فیصد ٹیکس رعایت حاصل تھی، جسے 2013 میں 40 فیصد، 2019 میں 25 فیصد تک محدود کر دیا گیا اور 2025 میں مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔

فاپواسا نے بنیادی تنخواہی اسکیل کے تحت کام کرنے والے اساتذہ کے لیے ملک بھر کی جامعات میں یکساں ترقیاتی پالیسی نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے 2022 میں ترقیوں سے متعلق ایک پالیسی جاری کی تھی جس پر معمولی ترامیم کے بعد تمام متعلقہ فریقین کا اتفاق ہو چکا تھا، تاہم اس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

فاپواسا کا مؤقف ہے کہ اعلیٰ تعلیم اور علمی افرادی قوت میں سرمایہ کاری پاکستان کی سائنسی ترقی، معاشی استحکام، تکنیکی پیش رفت اور پائیدار قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ مالی مشکلات، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ٹیکسوں میں اضافے اور پالیسیوں پر عملدرآمد میں تاخیر نے ملک بھر کے اساتذہ اور محققین میں شدید بے چینی اور مایوسی پیدا کر دی ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے