پاکستان، ڈبلیو ایچ او اور ایم ایس ایف کا بچپن کی تپ دق سے متاثرہ 93 ہزار بچوں کے تحفظ کیلئے اشتراک

newsdesk
5 Min Read

پاکستان، ڈبلیو ایچ او اور ایم ایس ایف کا بچپن کی تپ دق سے متاثرہ 93 ہزار بچوں کے تحفظ کیلئے اشتراک

اسلام آباد: پاکستان کی وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کے کامن مینجمنٹ یونٹ (سی ایم یو)، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور میڈیسنز سان فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) نے پاکستان میں بچوں میں تپ دق (ٹی بی) کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کیلئے دو روزہ مشاورتی اجلاس منعقد کیا، جس میں قومی پالیسیوں کو عالمی رہنما اصولوں سے ہم آہنگ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

بچوں میں تپ دق - بچوں کے لیے تپ دق کا تحفظ مضبوط بنانے کا منصوبہ
وفاقی وزارت، عالمی ادارۂ صحت اور بین الاقوامی طبی تنظیم نے بچوں میں تپِ دق کے علاج اور حفاظتی حکمتِ عملیاں اپنانے کے لیے مشاورتی اجلاس کیا۔

ڈبلیو ایچ او کے اسلام آباد آفس میں ہونے والے اس اجلاس کا مقصد بچوں میں ٹی بی کے مؤثر علاج، بروقت تشخیص اور حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانا تھا۔ اندازوں کے مطابق پاکستان میں 93 ہزار 600 سے زائد بچے تپ دق سے متاثر ہیں، جبکہ ملک میں رجسٹرڈ 6 لاکھ 69 ہزار ٹی بی مریضوں میں کم از کم 14 فیصد بچے شامل ہیں۔ پاکستان مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں ٹی بی کے کل بوجھ کا 73 فیصد برداشت کر رہا ہے اور دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

اجلاس پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے تعاون سے منعقد کیا گیا، جس میں ایم ایس ایف کے “TACTiC” منصوبے کے تجربات اور عالمی ادارۂ صحت کی نئی سائنسی سفارشات کو قومی پالیسی کا حصہ بنانے پر غور کیا گیا۔ ڈبلیو ایچ او کی سفارشات میں چار ماہ پر مشتمل ٹی بی علاج، حفاظتی تھراپی، ڈرگ ریزسٹنٹ ٹی بی کیلئے نئی اورل ادویات پر مبنی 6 سے 9 ماہ کے علاج، خاندانی بنیادوں پر نگہداشت اور علاج کے جدید طریقہ کار شامل ہیں۔

وزارتِ صحت کے ٹی بی پروگرام منیجر ڈاکٹر فیصل سراج نے کہا کہ وزارتِ قومی صحت اور کامن مینجمنٹ یونٹ کی قیادت میں پاکستان نے بچوں میں تپ دق کو ایک اہم قومی چیلنج کے طور پر ترجیح دی ہے۔ ان کے مطابق بچوں کیلئے معیاری تشخیص، گھریلو سطح پر متاثرہ افراد کی جانچ، حفاظتی تھراپی اور بنیادی صحت کے نظام میں ٹی بی خدمات کو شامل کرنے جیسے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کے تعاون اور نگرانی کے بہتر نظام کے ذریعے مریضوں کی بروقت تشخیص اور علاج کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے، جبکہ یہ تمام اقدامات آئندہ قومی اسٹریٹجک پلان کا حصہ ہوں گے۔

ایم ایس ایف کے “TACTiC” منصوبے کے قومی سربراہ ڈاکٹر فلورین گوٹزنگر نے کہا کہ بچوں میں ٹی بی کی تشخیص بالغ افراد کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوتی ہے اور ان میں بیماری کی شدت کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی ڈبلیو ایچ او گائیڈ لائنز کے مطابق ایسے تشخیصی طریقہ کار اپنائے جا رہے ہیں جن سے لیبارٹری نتائج نہ ہونے یا غیر واضح ہونے کی صورت میں بھی بچوں کا علاج جلد شروع کیا جا سکے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال تپ دق کے باعث 51 ہزار اموات ہوتی ہیں، جبکہ روزانہ 1800 سے زائد نئے کیسز سامنے آتے ہیں اور تقریباً 140 افراد اس بیماری سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 2024 کے دوران تقریباً 12 لاکھ بچے ٹی بی کا شکار ہوئے، تاہم بڑی تعداد میں بچے اب بھی بروقت تشخیص اور علاج سے محروم ہیں۔

پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کی ڈپٹی نمائندہ ایلن تھام نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو ٹی بی سے محفوظ رکھنا صرف طبی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ اور پاکستان کے بہتر مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت پاکستان کے ساتھ مل کر سائنسی بنیادوں پر ایسے اقدامات جاری رکھے گا تاکہ ہر خطرے سے دوچار بچے تک حفاظتی نگہداشت، بروقت تشخیص اور علاج پہنچایا جا سکے، چاہے وہ کسی بھی علاقے یا سماجی پس منظر سے تعلق رکھتا ہو۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے