پاکستان اور علی بابا کے درمیان اے آئی، ڈیجیٹل اکانومی اور ایس ایم ایز کے فروغ کیلئے اہم معاہدے طے
اسلام آباد / ہانگژو (چین): حکومتِ پاکستان اور علی بابا گروپ کے درمیان مصنوعی ذہانت (AI)، کلاؤڈ سلوشنز، ڈیجیٹل اسکلز، ہیلتھ ٹیکنالوجی، ای کامرس، ایس ایم ایز کی ترقی اور ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے فروغ کیلئے متعدد مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کر دیے گئے، جنہیں پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ معاہدے چین کے شہر ہانگژو میں علی بابا کے ہیڈکوارٹرز میں طے پائے، جہاں وزیراعظم شہباز شریف اور علی بابا گروپ کے چیئرمین جو سائی نے تقریب میں شرکت کی۔ پاکستانی اداروں میں اگنائٹ نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ، اسکائی 47 اور اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) شامل تھے، جبکہ علی بابا کی جانب سے علی بابا کلاؤڈ، DAMO اکیڈمی، Alibaba.com اور Koko Tech نے معاہدوں پر دستخط کیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ علی بابا نے ای کامرس، مصنوعی ذہانت، فن ٹیک اور انسانی وسائل کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتے ہوئے عالمی سطح پر ایک بڑی ڈیجیٹل کمپنی کی حیثیت اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اور علی بابا کے درمیان یہ تعاون ڈیجیٹل شمولیت، نوجوانوں کو بااختیار بنانے، زراعت کی جدیدکاری اور مالیاتی شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔
علی بابا گروپ کے چیئرمین جو سائی نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ اور ڈیجیٹل صلاحیت موجود ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ ٹیکنالوجیز اور جدید ڈیجیٹل نظام صحت کے شعبے میں بہتری، کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی اور طویل المدتی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
معاہدوں کے تحت اگنائٹ اور علی بابا کلاؤڈ پاکستان کیلئے محفوظ اور مقامی نوعیت کے اے آئی اور کلاؤڈ سلوشنز تیار کریں گے، جن میں اردو اور علاقائی زبانوں کیلئے اے آئی ماڈلز شامل ہوں گے۔ ان ٹیکنالوجیز کو تعلیم، صحت اور زراعت جیسے اہم شعبوں میں استعمال کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں پانچ لاکھ افراد کو اے آئی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی تربیت اور سرٹیفکیشن فراہم کی جائے گی، جن میں طلبہ، ڈویلپرز اور سرکاری ملازمین شامل ہوں گے۔ دونوں ادارے نوجوان ڈویلپرز کیلئے مشترکہ اے آئی ہیکاتھون بھی منعقد کریں گے، جس میں اسمارٹ زراعت، مالی شمولیت اور اردو زبان کی ٹیکنالوجیز پر کام کیا جائے گا۔
صحت کے شعبے میں DAMO اکیڈمی اور اسکائی 47 پاکستان میں اے آئی پر مبنی ہیلتھ کیئر سلوشنز متعارف کرائیں گے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے بغیر کنٹراسٹ سی ٹی اسکین کے کینسر سمیت مختلف بیماریوں کی ابتدائی تشخیص ممکن بنائی جائے گی، خصوصاً لبلبے اور جگر کے کینسر کی جلد شناخت میں مدد ملے گی۔ اسکائی 47 اسلام آباد، لاہور اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں یہ نظام متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ علاوہ ازیں DAMO اکیڈمی اور اگنائٹ پاکستانی جامعات میں جدید اے آئی اور روبوٹک انٹیلیجنس کی تربیت کیلئے آن لائن کورسز، ورکشاپس اور ڈویلپر کمیونٹیز قائم کریں گے۔
ایس ایم ایز اور ای کامرس کے فروغ کیلئے Alibaba.com اور SMEDA پاکستانی کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کریں گے۔ اس منصوبے کے تحت دس ہزار کاروباری اداروں کو اے آئی پر مبنی ڈیجیٹل ٹریڈ ٹریننگ دی جائے گی، جبکہ کم از کم دو ہزار پاکستانی ایس ایم ایز کو “پاکستان پویلین” کے ذریعے Alibaba.com پر شامل کیا جائے گا، جہاں پاکستانی مصنوعات کو دنیا بھر کے پچاس ملین سے زائد خریداروں تک پہنچایا جائے گا۔
مالیاتی شمولیت کے شعبے میں داراز گروپ کی کمپنی Koko Tech نے اگنائٹ کے ساتھ “Buy Now, Pay Later” (BNPL) سروس متعارف کرانے کیلئے تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔ کمپنی پاکستان میں نان بینکنگ فنانس کمپنی (NBFC) کے طور پر کام کرے گی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو فروغ دینے کیلئے 30 لاکھ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ اس اقدام سے مقامی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت اور مالیاتی شمولیت کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
