بین الاقوامی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے پیرا اولمپین حیدر علی نے حال ہی میں ملنے والے اعزازی سِٹارَہ امتیاز کو اپنے والدین کے نام کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی قربانیاں، رہنمائی اور دعائیں ان کی کامیابی کا بنیادی سبب ہیں اور یہی عوامل انہیں بین الاقوامی میدانوں میں کھڑا رکھنے میں کلیدی حیثیت رکھتے تھے۔حیدر علی نے اعزازی اعزاز ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز ان کے لیے ملک کی خدمت اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا پرچم بلند کرنے کے جذبے کی تکمیل کا لمحہ ہے۔ انہوں نے اپنی کامیابی میں شامل تمام معاون اداروں اور افراد کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔انھوں نے قومی پیرالمپک کمیٹی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کمیٹی کی مستقل حمایت نے انہیں بین الاقوامی اعزازات جیتنے کے مواقع فراہم کیے۔ اسی طرح واپڈا نے بھی مالی اور ادارہ جاتی معاونت کے ذریعے ان کے سفر کو مضبوط بنایا جس کا انہوں نے اعادہ سے ذکر کیا۔حیدر علی نے اپنے تربیتی پہلوؤں میں نیشنل ہسپتال ڈی ایچ اے لاہور کے ڈائریکٹر اور ایکٹیویٹ کے چیف ایگزیکٹو رضوان آفتاب احمد کا خاص طور پر تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مناسب طبی دیکھ بھال، غذائی رہنمائی اور مالی تعاون نے انہیں مکمل توجہ کے ساتھ مقابلوں کی تیاری کرنے میں مدد دی۔مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے حیدر علی نے کہا کہ ان کی توجہ آئندہ بین الاقوامی مقابلوں پر مرکوز ہے، جن میں اکتوبر میں ہونے والے ایشین پیراگیمز، تاشقند میں آئندہ سال کا عالمی چیمپئن شپ اور ان کا سب سے بڑا ہدف لاس اینجلس پیرالمپکس دو ہزار اٹھائیس شامل ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ وہ مزید میڈلز جیت کر ملک کا نام روشن کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔حیدر علی کی اس اعلان شدہ وابستگی اور نظمِ عمل نے پاکستانی کھیل کے منظرنامے میں ایک مثبت پیغام دیا ہے کہ ذاتی محنت اور ادارہ جاتی حمایت مل کر بین الاقوامی کامیابیوں کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔
