لاہور اور سیالکوٹ کے تجارتی حلقوں میں علی بابا ڈاٹ کام کی تازہ پیشکش نے اچھا شور مچا دیا ہے۔ کمپنی نے مقامی صدور اور برآمد کنندگان کے لیے ایک خودمختار، پلگ اینڈ پلے ورک فورس متعارف کروائی ہے جسے مقامی زبان میں ایکسِیو ورک کہا جا رہا ہے۔ یہ حل خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بہتر طریقے سے حصہ لے سکیں اور روایتی وسائل کی کمی کو پورا کر سکیں۔ایکسِیو ورک کو علی بابا ڈاٹ کام نے ایک ایسی ‘ایجنٹک بزنس ٹیم’ کے طور پر پیش کیا ہے جو متعدد محکمہ جاتی فرائض خودکار طریقے سے انجام دیتی ہے۔ یہ نظام مارکیٹ کی تحقیق کر کے مواقع کی نشاندہی کرتا ہے، روزمرہ کے ورک فلو کو سنبھالتا ہے اور فوری عملی اقدامات اٹھاتا ہے تاکہ برآمد کنندگان محدود وسائل کے باوجود اپنی کاروباری کارکردگی بہتر بنا سکیں۔اس پلیٹ فارم کے ذریعے مارکیٹ انٹیلی جنس فراہم کی جاتی ہے جو رجحانات اور طلب کی بنیاد پر پروڈکٹ کے انتخاب اور مارکیٹ میں داخلے کی رہنمائی کرتی ہے۔ ساتھ ہی فروخت کی پیشکشیں اور مصنوعات کی بین الاقوامی معیار کے مطابق فہرست سازی اور بصری مواد کی تیاری بھی خودکار انداز میں کی جاتی ہے، جس سے آن لائن اسٹورز بین الاقوامی سطح کے معیار کے مطابق دکھائی دیتے ہیں۔گاہکوں سے رابطے اور سیلز سپورٹ کے شعبے میں ایکسیو ورک مسلسل موجود رہ کر اعلی معیار کے جوابات فراہم کرتا ہے اور ممکنہ خریداروں کی شناخت کر کے بروقت مداخلت ممکن بناتا ہے۔ کارکردگی کی جانچ کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اسٹور بریفنگ اور قیمتوں، لاجسٹکس وغیرہ کے بارے میں عملی سفارشات بھی پیش کی جاتی ہیں، جس سے بیچنے والوں کو اپنے کاروبار کی کارکردگی بہتر کرنے میں فوری رہنمائی ملتی ہے۔علی بابا ڈاٹ کام کے نمائندوں نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد پاکستان کے برآمداتی منظرنامے کو جدید ڈیجیٹل اوزاروں کے ذریعے تقویت دینا ہے۔ مقامی بیچنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اسی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ایکسیو ورک متعارف کروایا گیا ہے تاکہ چھوٹے اور درمیانے کاروبار عالمی مقابلے کے قابل بن سکیں۔یہ پیشرفت لاہور اور سیالکوٹ جیسے صنعتی شہروں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے جہاں کپڑا، کھیل کے سازوسامان اور سرجیکل آلات جیسی صنعتیں برآمدات میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ مقامی کاروباری حلقے امید کرتے ہیں کہ ایکسیو ورک جیسے خودکار کاروباری حل ان کے لیے نئے تجارتی راستے کھولیں گے اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں آسانی پیدا کریں گے۔
