ڈاکٹر ندیم اقبال جنوبی پنجاب کی علمی شان

newsdesk
11 Min Read
ڈاکٹر ندیم اقبال نے پسماندہ جنوبی پنجاب کے گاؤں سے اٹھ کر بین الاقوامی تحقیقی مقام اور قومی تعلیمی خدمات حاصل کیں۔

تحریر : حافظ محمد غازی اڈیشنل رجسٹرار این ایس یو، اسلام اباد

جنوبی پنجاب کی روشن و زرخیز مگر خاموش دھرتی کبھی کبھی ایسے چراغ جنم دیتی ہے جو
نہ صرف اپنے وجود سے آس پاس کے اندھیروں کو اجالوں میں بدل دیتے ہیں بلکہ چراغ
بھی ان سے روشنی مستعار لیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں، جن کا آسمان کی رفعتوں کو
چھونے کا راز وسائل کی فراوانی نہیں بلکہ یقین محکم، عمل پیہم، جہد مسلسل، سچی لگن،
جوش، ولولہ اور امن کے کردار اور خوابوں کی وسعت میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ ضلع ڈیرہ غازی
خان کے ایک پسماندہ گاؤں درخواست جمال خاں کی مٹی نے بھی ایک ایسے ہی بیٹے کو جنم
دیا جنہوں نے ثابت کیا کہ منزلیں صرف شہروں کی جاگیر نہیں ہوتیں، نا ہی ان تک
پہنچنے کا زمانہ و مکان کی حدود و قیود سے کوئی واسطہ ہوتا ہے۔ یہ بڑی شدت سے
اپنے ان مسافروں کا انتظار کرتی ہیں جو راستے کا ہر پتھر ہٹا کر ان کی طرف لپکتے
رہتے ہیں۔

پوری دنیا میں اپنی تحقیقات پیش کرنے والے اس شخص کی تعلیم کا آغاز کسی جدید عمارت
یا ملکی سطح پر شان و شوکت رکھنے والے ادارے سے نہیں ہوا بلکہ ایک درخت کی چھاؤں،
مٹی کی خوشبو اور ٹاٹ کے سادہ ماحول نے اس سفر کی بنیاد رکھی۔ ابتدائی تعلیم
گورنمنٹ ہائی سکول میاں بھیرو سے حاصل کی۔ مگر ابتدا ہی سے ان کی شخصیت میں
ایک خاموش اعتماد اور آگے بڑھنے کی بے چینی موجود تھی۔ اسمبلی میں ”لب پہ آتی ہے
دعا بن کے تمنا میری“ کی گردان کرتے کرتے وہ اپنی منزل کی سیڑھیوں پر چڑھتے اور
خود کو بلند کرتے گئے کہ بقول اقبال وہ مقام بھی آ ہی گیا جب خدا نے خود پوچھا
بتا تیری رضا کیا ہے۔

ثانوی تعلیم کے بعد ان کا داخلہ جامع سکول ڈیرہ غازی خان میں ہوا، جہاں ہاسٹل کی
زندگی نے انہیں خود انحصاری، نظم اور حالات سے مقابلہ کرنا سکھایا۔ یہ وہ زمانہ
ہوتا ہے جب کھلی آنکھوں سے خواب صرف دیکھے نہیں جاتے بلکہ ان کے تعبیر کے لئے
خاموشی سے محنت بھی کی جاتی ہے۔ کالج کے دور میں انہوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ
کھیل کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ کرکٹ ان کے لیے محض کھیل نہ
تھی بلکہ حوصلہ، مقابلہ، قیادت اور عزم و ہمت کی عملی تربیت تھی۔

گورنمنٹ کامرس کالج سے بی کام مکمل کرنے کے بعد ان کے اساتذہ سے ایسا تعلق قائم ہوا
جو رسمی شاگردی سے آگے بڑھ کر احترام اور اخلاص کی ایک خوبصورت مثال بن گیا۔

بعد ازاں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم بی اے کے دوران ان کی شخصیت کے کئی نئے
رنگ سامنے آئے۔ وہ یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان منتخب ہوئے – مگر یہ کپتانی صرف نام
کی نہ تھی۔ بہترین بلے باز، بہترین باؤلر، بہترین فیلڈر اور بہترین کپتان – یہ
چاروں اعزاز اگر ایک ہی شخصیت کے حصے میں آئے تو وہ ندیم اقبال تھے۔ یہ صرف
کھیل کے میدان کی کامیابی نہ تھی بلکہ اس بات کا اشارہ بھی تھا کہ ایک اور میدان
کا شیر آگے جا کر کسی نہ کسی شعبے کی قیادت سنبھالے گا اور ملک و قوم کی خدمت کے
لئے اپنے آپ کو وقف کر دے گا۔

زندگی کی اننگز میں چھکے چوکے جاری تھے کہ ان کے اندر نمو پانے والے محقق کے پھوٹنے
کا وقت آن پہنچا۔ ایک بار پھر انہوں نے ملک و ملت کے ایک اور شاندار کرکٹر کی طرح
برطانیہ کی ایک ممتاز یونیورسٹی سے اسکالرشپ پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور علم
و تحقیق کے لمبے سفر پر روانہ ہو گئے۔ یہ ان کی علمی جدوجہد کا اہم سنگ میل ثابت
ہوا اور انہوں نے بعد میں برطانیہ کی ایک اور یونیورسٹی سے ۲۰۱۶ تا ۲۰۱۷ اعلی
ترین ڈگری (پوسٹ پی ایچ ڈی) شاندار کامیابی سے مکمل کر لی۔

یہ ایک ایسا علمی سفر جس نے ان کے نام کے ساتھ صرف ایک ڈگری نہیں بلکہ ایک نئی
شناخت جوڑ دی۔ انگلستان کے ممتاز محققین کی نگرانی میں تیار ہونے والا ان کا
تحقیقی کام علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا اور انہیں خوب سراہا گیا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب ندیم اقبال، ڈاکٹر ندیم اقبال بنے مگر یہ تبدیلی صرف نام کی نہ
تھی، یہ سوچ، وژن اور کردار کی وسعت کا نام تھی۔

میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں بطور لیکچرار تقرری کے بعد انہوں نے اپنے
شعبے میں نئی روح ۲۰۱۲ پھونکی۔ بعد ازاں انہیں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ مقرر کیا گیا اور
ان کی قیادت میں شعبے نے نمایاں ترقی کی، یہاں تک کہ اسے بہترین ڈیپارٹمنٹ کا
درجہ حاصل ہوا۔ ۲۰۱۴ میں غازی یونیورسٹی کے قیام کے وقت انہیں نہ صرف ہیڈ آف
ڈیپارٹمنٹ بلکہ کیمپس انچارج کی ذمہ داری بھی دی گئی۔ ان کی انتھک محنت، ادارے
سے وابستگی اور مسلسل بہتری کی سوچ نے ادارے کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔

اسی دوران انہوں نے غازی یونیورسٹی کے خزانچی کا عہدہ سنبھالا۔ اس منصب پر انہوں نے
ڈھائی برس ایسی دیانت اور خلوص کے ساتھ خدمات انجام دیں کہ ایک پیسے کا بھی ٹی اے
ڈی اے وصول نہ کیا۔ یہ محض انتظامی ذمہ داری نہیں تھی بلکہ کردار کی وہ سچائی تھی
جو ہمارے ملک میں تو کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔

میں ائر یونیورسٹی اسلام آباد میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر/پروفیسر تعیناتی ہوئی تو
انہوں نے مختصر مدت ۲۰۲۰ میں اطلاع دی کہ ان کے Wiley میں دو پی ایچ ڈی اور دو ایم
فل مقالے مکمل کروائے۔ اسی دوران عالمی اشاعتی ادارے حاصل ہوئے جو کسی بھی محقق کے
لیے بڑا (Citations) ایک تحقیقی مقالے کو غیر معمولی سطح پر حوالہ جات اعزاز سمجھا
جاتا ہے۔

اسی عرصے میں انہیں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں تدریس کا موقع ملا، مگر ان کی
صلاحیتوں نے جلد ہی ایک نئی منزل کی طرف رہنمائی کی اور انہیں پاکستان کے افق پر
عالمی معیار کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار کی قیادت میں نیشنل
سکلز یونیورسٹی میں بطور پروفیسر تعینات کر دیا گیا۔

کچھ عرصہ بعد انہیں ڈیپارٹمنٹ کا چیئرمین بنایا گیا اور کنٹرولر امتحانات اور
خزانچی کی اضافی ذمہ داری بھی سونپی گئی، جسے انہوں نے غیر معمولی انتظامی
صلاحیت اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ نبھایا۔

ان کی قابلیت اور دیانت پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں انٹرنل آڈٹ کا چارج بھی دیا گیا۔
ساتھ ہی ڈائریکٹر ایگزیکٹو سینٹر کی ذمہ داری بھی ان کے سپرد کی گئی۔ انہوں نے ان
مناصب کو صرف انتظامی فرائض کی حد تک محدود نہ رکھا بلکہ انہیں ادارے کی بہتری
اور علمی ترقی کا ذریعہ بنایا۔

ان کے علمی وژن کا ایک خوبصورت اظہار یہ بھی تھا کہ انہوں نے اپنے شعبے میں دو نئے
پروگرام متعارف کروائے – یہ پروگرام آج کامیابی سے جاری ہیں اور ان کی تعلیمی دور
اندیشی کے زندہ ثبوت بن چکے ہیں۔

ان کی علمی خدمات کلاس روم تک محدود نہیں رہیں بلکہ تھائی لینڈ، انڈونیشیا، انڈیا،
آذربائیجان، دبئی اور سعودی عرب میں ہونے والی عالمی کانفرنسز میں انہوں نے بطور
مقرر اور مہمان خصوصی شرکت کی اور کئی بین الاقوامی فورمز پر جیوری ممبر کے طور
پر بھی مدعو کئے گئے۔

قائداعظم یونیورسٹی، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی، عبدالولی خان یونیورسٹی اور دیگر
جامعات کی تحقیقی کمیٹیوں میں ان کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا علم محض
ذاتی کامیابی نہیں بلکہ اجتماعی ترقی کا ذریعہ بن چکا ہے۔

۱۰۰ سے زائد بین الاقوامی تحقیقی مقالے اور کئی بین الاقوامی ناشر کے ساتھ شائع
ہونے والی کتب ان کے علمی سرمائے کا حصہ ہیں جس سے کرہ ارض کے علم کے پیاسے
سیراب ہو رہے ہیں۔

برطانیہ، آسٹریلیا اور امریکہ جیسے ممالک نے انہیں اعلی عہدوں کی پیشکش کی مگر
انہوں نے انہیں قبول نہ کیا۔ کیونکہ ان کے نزدیک کامیابی صرف اپنی ذات کے لیے
نہیں بلکہ اپنی مٹی، اپنے لوگوں اور اپنے وطن کے لیے زیادہ معنی رکھتی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر ندیم اقبال کی زندگی اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو،
محنت مسلسل ہو اور مقصد خدمت ہو تو درخت کی چھاؤں میں بیٹھ کر کسی دور افتادہ
گاؤں کے کونے میں پیپل کی چھاؤں میں بیٹھ کر پڑھنے والا بچہ بھی دنیا کے نقشے پر
اپنی پہچان قائم کر سکتا ہے۔

کی ایک تحقیق کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر ندیم اقبال مینجمنٹ سائنسز کے نمایاں محققین
میں شامل ہیں، جو اپنے ٢٠٢٦ مضبوط تحقیقی اثر اور حوالہ جاتی ریکارڈ کی بنیاد پر
وفاقی سطح پر پہلے اور پنجاب میں دوسرے نمبر پر درجہ بند ہیں۔

وہ صرف ایک استاد نہیں، ایک فکر ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر ندیم اقبال محض ایک محقق نہیں،
بلکہ اعلی پائے کے منتظم، تجربہ کار استاد، اور سب سے بڑھ کر ایک خوبصورت انسان
ہیں۔

شاید ایسے ہی لوگوں کے لئے اقبال نے کہا تھا:

کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے