فٹبال برائے ذہنی صحت پروگرام کی شروعات اسلام آباد میں ہوئی، جہاں کھلاڑی، انتظامی حکام اور متعلقہ فریقین جمع ہوئے تاکہ کھیل کے ذریعے ذہنی فلاح و بہبود اور سماجی ترقی پر روشنی ڈالی جا سکے۔ اس موقع پر پاکستان فٹبال فیڈریشن اور اقوام متحدہ کے دفترِ نوجوانان کے نمائندوں نے اس تعاون کا باقاعدہ اعلان کیا۔تقریب میں بتایا گیا کہ پاکستان کو عالمی سطح کے تجرباتی ممالک میں شامل کیا گیا ہے جہاں یہ منصوبہ ماڈل کے طور پر چلایا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے پاکستان میں مقیم رابطہ کار محمد یحیٰ نے کہا کہ یہ تعاون محض شراکت نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ نوجوان اہمیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی ایسے دباؤ اور غیر یقینی حالات سے دوچار ہے جن سے نمٹنے کے لیے ذہنی صحت فوری ترجیح ہے، اور اسی پس منظر میں فٹبال ایک قابلِ قدر ذریعہ بن کر سامنے آتا ہے جو شفا اور نمو کا راستہ فراہم کرتا ہے۔پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید محسن گیلانی نے کہا کہ کھیل کا اثر میدان تک محدود نہیں رہتا، فڈریشنز کی ذمہ داری ہے کہ وہ کھیل کے ذریعے معاشرتی تعمیر میں حصہ ڈالیں۔ انھوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ مہم چھ ماہ کے لیے منصوبہ بند تھی مگر اب اسے ایک سال تک بڑھا دیا گیا ہے تاکہ ملک بھر میں چار سو سے زائد ذہنی صحت کے سفیر تیار کیے جا سکیں۔ گیلانی نے فٹبال کو نوجوانوں کی بااختیار سازی اور سماجی اثرات کے فروغ کا مضبوط آلہ قرار دیا۔قومی خواتین ٹیم کی کپتان ماریا خان اور سابق نائب کپتان ملکہ نور نے ذاتی تجربات شیئر کیے کہ کس طرح فٹبال نے ان کے لیے نفسیاتی سکون، اجتماعی وابستگی اور جذباتی مضبوطی کا ذریعہ بن کر کام کیا، خصوصاً اُن خواتین کے لیے جو روایتی ذمہ داریوں اور سماجی توقعات کے درمیان توازن قائم کرتی ہیں۔ ان کی کہانیاں یہ واضح کرتی ہیں کہ فٹبال برائے ذہنی صحت پروگرام نوجوانوں، خاص طور پر خواتین کے لیے عملی مدد فراہم کر سکتا ہے۔پروگرام میں حفاظتی تدابیر، شمولیت اور کمیونٹی سپورٹ کے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اقوام متحدہ کے نمائندوں نے تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بہت سے نوجوان اب بھی ذہنی مسائل پر کھل کر بات کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں، اس لیے ایسے فورمز اور تربیتی منصوبے ضروری ہیں جو بحث و مباحثے کے ماحول کو سہل دیں۔تقریب کا اختتام پاکستان فٹبال فیڈریشن اور اقوام متحدہ کے درمیان ایک اعلامیہ پر دستخط کے ساتھ ہوا، جس نے باضابطہ طور پر فٹبال برائے ذہنی صحت تعاون کا آغاز کیا۔ امید ظاہر کی گئی کہ اس مہم کے ذریعے مقامی سطح پر شعور بڑھے گا، سفیروں کی تربیت سے کمیونٹی میں ذہنی صحت کے بارے میں گفت و شنید بڑھے گی اور فٹبال کو جوانوں کی بہبود کے لیے ایک مضبوط راستہ بنایا جائے گا۔
