اسلام آباد میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے منعقدہ تقریب میں وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پاک چین تعلقات سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ میں ایک بے مثال مثال ثابت ہوئے ہیں اور عالمی اتھل پتھل کے باوجود یہ دوستی مضبوط رہنے میں کامیاب رہی۔ انہوں نے بتایا کہ چین نے غربت میں کمی کے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے جبکہ پاکستان اب بھی کئی طویل المدتی ساختی مسائل کا سامنا کر رہا ہے جن میں سرکاری بیوروکریسی اور ریگولیٹری پیچیدگیاں شامل ہیں۔وزیر نے کہا کہ چینی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے تجویز کردہ ایک قانون سازی کا مسودہ جو ٹیکسٹائل سرمایہ کاری کو سہل بناتا ہے، وزیرِ اعظم کی منظوری کے باوجود چھ ماہ سے تاخیر کا شکار ہے۔ ان نکات نے پاک چین تعلقات کے تجارتی اور کاروباری پہلوؤں میں درپیش رکاوٹوں کی طرف توجہ دلائی۔چینی سفارت خانے کے نائب سربراہ شی یوان چیانگ نے اِس سال کے ۷۵ویں سالانہ موقع کو سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک نئی تاریخی منزل کے آغاز پر کھڑے ہیں اور قیادت نے تعلقات کو عوام تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدور اور وزرائے اعظم کے عہدوں پر بیٹھے رہنماؤں نے عوامی رابطوں کو بڑھانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلِری نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز کو عملی شکل دینا لازم ہے مگر کئی اقدامات بین الاقوامی مالیاتی پروگرام کی شرائط کی وجہ سے محدود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین تعلقات کو اگلے ۷۵ سالوں میں حکومتی سطح کی نیک خواہش سے کاروباری سطح کی حقیقت میں تبدیل کرنا چیلنج ہے اور اس کے لیے بیوروکریٹک اصلاحات، سکیورٹی گارنٹیز اور ریگولیٹری پیش گوئی ناگزیر ہیں۔ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ تعلقات کی مضبوطی پر کبھی سوال نہیں رہا بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ شراکت داری کس طرح حکومت سے حکومت کی سطح سے کاروبار سے کاروبار کی سطح تک پہنچے۔ حامد شریف، جو سابق مینیجنگ ڈائریکٹر ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک رہے ہیں، نے یاد دلایا کہ پاکستان نے دشوار حالات میں چین کا ساتھ دیا اور دونوں ممالک نے ساتھ مل کر کرکورم ہائی وے جیسی بطورِ قربانی پروجیکٹس پر کام کیا جہاں بہت سے لوگ جان سے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ چین پاکستان کے لیے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ بن چکا ہے مگر اس کے باوجود دوطرفہ تجارت میں غیر متوازن صورت حال برقرار ہے۔حامد شریف نے کہا کہ دو طرفہ تجارت چالیس سے زائد ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے مگر پاکستان کی چین کو برآمدات محض دو اعشاریہ چار ارب ڈالر کے قریب ہیں اور پاکستانی برآمدکنندگان نے ترجیحی سہولیات کا صرف تیس فی صد فائدہ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چینی بی ٹو بی سرمایہ کاری پاکستان کو بڑی حد تک نظر انداز کرتی ہے اور ویتنام نے گزشتہ دہائی میں بڑے سرمایہ کاری پیکجز وصول کیے جبکہ ہمارے خصوصی اقتصادی زونز اپنی صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہے جس کی وجہ ریگولیٹری غیر یقینی، ٹیکس کے غیر واضح رویے اور بوروکریٹک پیچیدگیاں ہیں۔ حامد شریف کے الفاظ میں بعض سرکاری اہلکار چینی سرمایہ کاری کے ایک ڈالر کو لانے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ڈاکٹر خالد ولید نے رپورٹ متعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ پاک چین تعلقات مختلف شعبہ جات میں بتدریج گہرے ہوتے گئے اور چین نے پاکستان کی توانائی کے بحران میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے شمسی توانائی میں حالیہ پیش رفت اور چینی تعاون سے شروع ہونے والی سرکاری اقدار کا ذکر کیا اور کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں سبز توانائی، صنعت، ٹیکنالوجی اور کان کنی پر توجہ دی جائے گی اور اندازاً ۳۰ تا ۵۰ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری خصوصی اقتصادی زونز میں آئے گی جس سے ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے عوام کو شمسی انقلاب، چالیس گیگا واٹ کے قریب توانائی اور برقی گاڑیوں کے فروغ کا جشن منانے کی ترغیب دی۔پینل گفتگو میں ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے کہا کہ چینی نظریہ طویل مدتی سربراہی کو مضبوط ادارتی سہارا دیتا ہے اور دونوں ممالک مل کر ۲۰۴۷ تا ۲۰۴۹ کے افق پر اقتصادی جدیدی اور قومی تجدید کی مشترکہ راہیں دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے آغازِ سرمایہ کاری بانڈ، پانڈا بانڈ، کی مانگ پانچ گنا زائد رہی۔ ڈاکٹر سید حسنت شاہ نے تاریخی لحاظ سے دونوں ممالک کے لمبے تعلقات اور مختلف نظاموں کے باوجود یکسوئی کو اہم قرار دیا۔تقریر اور مباحثے کے دوران بار بار زور دیا گیا کہ پاک چین تعلقات کو کامیاب کاروباری شراکت میں بدلنے کے لیے اندرونی اصلاحات، شفاف قواعد و ضوابط، اور سرکاری سطح سے کاروباری سطح تک روابط کی تسہیل ناگزیر ہیں۔ بولنے والوں نے یہ بھی کہا کہ اگر بروکریسی اور ریگولیٹری پیچیدگیوں کا حل نہ نکالا گیا تو خصوصی اقتصادی زونز اور متوقع سرمایہ کاری کا مکمل فائدہ حاصل نہیں ہو سکے گا۔مجموعی طور پر شرکا نے اتفاق کیا کہ ۷۵ برسہ تعلقات تاریخی اہمیت رکھتے ہیں مگر اب وقت ہے کہ اس اعتماد اور دوستی کو عملی کاروباری فلاح و بہبود میں تبدیل کیا جائے تاکہ پاک چین تعلقات عوام تک محسوس ہونے والی ترقی میں بدل سکیں۔
