ملک کی 23 سرکاری جامعات مستقل وائس چانسلرز سے محروم
ندیم تنولی
اسلام آباد: ملک کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو سنگین انتظامی بحران کا سامنا ہے کیونکہ ملک بھر کی 23 سرکاری جامعات اور اعلیٰ تعلیمی ادارے مستقل وائس چانسلرز یا ریکٹرز کے بغیر چلائے جا رہے ہیں۔ ان اداروں میں انتظامی اور پالیسی معاملات قائم مقام سربراہان کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں، جس پر سینیٹ میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
یہ انکشاف سینیٹ میں پیش کیے گئے ایک تحریری جواب میں سامنے آیا، جس میں مستقل تقرریوں میں تاخیر، ادارہ جاتی تسلسل کی کمزوری اور طویل عرصے تک قائم مقام انتظامات کے اثرات پر سوالات اٹھائے گئے۔
وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب کے مطابق ملک کی 163 سرکاری جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سے 23 اس وقت مستقل وائس چانسلرز یا ریکٹرز کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ حکومت نے بتایا کہ ان اداروں میں انتظامی امور عارضی ذمہ داریوں کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اور اس کے زیر انتظام علاقوں کی صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک قرار دی گئی جہاں سات جامعات قائم مقام سربراہان کے تحت چل رہی ہیں۔ ان اداروں میں نیشنل اسکلز یونیورسٹی اسلام آباد، نیشنل یونیورسٹی آف پاکستان راولپنڈی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، کلام بی بی انٹرنیشنل ویمن انسٹیٹیوٹ بنوں، ورچوئل یونیورسٹی لاہور، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن لاہور شامل ہیں۔
تحریری جواب کے مطابق نیشنل یونیورسٹی آف پاکستان راولپنڈی کے قیام سے اب تک مستقل ریکٹر تعینات نہیں کیا جا سکا اور یہ معاملہ اپریل 2023 سے زیر التوا ہے۔ اسی طرح نیشنل اسکلز یونیورسٹی اسلام آباد اکتوبر 2023 سے مستقل وائس چانسلر سے محروم ہے جبکہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں نومبر 2024 سے مستقل ریکٹر موجود نہیں۔
بلوچستان میں بھی چار سرکاری جامعات قائم مقام وائس چانسلرز کے تحت چل رہی ہیں جن میں میر چاکر خان رند یونیورسٹی سبی، یونیورسٹی آف تربت، یونیورسٹی آف گوادر اور یونیورسٹی آف مکران پنجگور شامل ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق میر چاکر خان رند یونیورسٹی سبی اگست 2023 سے مستقل وائس چانسلر سے محروم ہے، جو طویل عرصے سے زیر التوا معاملات میں شامل ہے۔
خیبر پختونخوا میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز سوات، یونیورسٹی آف صوابی، خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور اور زرعی یونیورسٹی پشاور قائم مقام سربراہان کے تحت چل رہی ہیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز سوات کے لیے انٹرویوز مکمل ہو چکے ہیں تاہم مستقل وائس چانسلر کی تقرری ابھی تک نہیں ہو سکی۔
پنجاب میں پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی رسول منڈی بہاؤالدین، میر چاکر خان رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ڈیرہ غازی خان، ویمن یونیورسٹی ملتان اور راولپنڈی ویمن یونیورسٹی مستقل وائس چانسلرز سے محروم ہیں۔
سندھ میں شہید بینظیر آباد کی پیپلز یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز فار ویمن اور شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز سکرنڈ قائم مقام انتظامات کے تحت چل رہی ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر میں بھی دو جامعات مستقل سربراہان سے محروم ہیں جن میں آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی بھمبر اور یونیورسٹی آف پونچھ راولا کوٹ شامل ہیں۔
حکومت نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ وائس چانسلرز اور ریکٹرز کی تقرریاں متعلقہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور تاخیر کی بنیادی وجوہات میں سرچ کمیٹیوں کی تشکیل، امیدواروں کی جانچ پڑتال، انٹرویوز اور متعلقہ حکام سے منظوری کا عمل شامل ہے۔
اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے بھی مؤقف دیا کہ وہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مستقل بنیادوں پر خالی آسامیوں کے بارے میں آگاہ کرتا رہتا ہے اور بروقت تقرریوں پر زور دیتا ہے تاکہ جامعات میں مؤثر نظام اور تعلیمی تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔ تاہم سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کئی جامعات مہینوں بلکہ بعض کیسز میں برسوں سے قائم مقام سربراہان کے تحت چل رہی ہیں۔
اس صورتحال نے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ آیا مستقل قیادت کے بغیر سرکاری جامعات تعلیمی معیار، مالی نظم و ضبط، پالیسی سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات کو مؤثر انداز میں برقرار رکھ سکتی ہیں یا نہیں۔ ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک قائم مقام انتظامات فیصلہ سازی کو کمزور اور طلبہ، اساتذہ اور انتظامیہ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتے ہیں۔
یہ تحریری جواب سینیٹر ڈاکٹر زرقا سہروردی تیمور کے سوال کے جواب میں سینیٹ میں پیش کیا گیا، جنہوں نے مستقل وائس چانسلرز اور ریکٹرز کے بغیر چلنے والی سرکاری جامعات، خالی آسامیوں کی مدت اور تقرریوں میں تاخیر کی وجوہات کی تفصیلات طلب کی تھیں۔
Copied From: 23 public universities running without regular Vice Chancellors as governance crisis hits higher education

