ریڈ اور یلو لائن منصوبوں کی لاگت میں 281 ملین ڈالر اضافہ، ٹھیکیداروں کو تقریباً مکمل ادائیگیاں

6 Min Read
سینیٹ کمیٹی نے کراچی کے بیرونی فنڈز سے چلنے والے ٹرانزٹ منصوبوں میں تاخیر، لاگت میں اضافے اور تقریباً مکمل ادائیگیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔

26 فیصد کام، مگر اربوں روپے جاری، کراچی ریڈ لائن منصوبہ سوالات کی زد میں

ندیم تنولی

اسلام آباد: کراچی کے غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے ماس ٹرانزٹ منصوبے پارلیمانی نگرانی کی زد میں آ گئے ہیں، جہاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے انکشافات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ ریڈ لائن اور یلو لائن بی آر ٹی منصوبوں میں محدود کام کے باوجود ٹھیکیداروں کو تقریباً مکمل ادائیگیاں کر دی گئیں، جبکہ دونوں منصوبوں کی لاگت مجموعی طور پر 281 ملین ڈالر بڑھ گئی۔ کمیٹی نے زائد ادائیگیوں، منصوبوں میں تاخیر، لاگت میں اضافے اور کمزور مالی نگرانی پر سخت اعتراضات اٹھائے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہوا جس میں کراچی بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پیکیج ون، جس کی لاگت 13 ارب 79 کروڑ روپے ہے، میں صرف 26 فیصد فزیکل پیش رفت ہوئی لیکن تقریباً 13 ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح پیکیج ٹو، جس کی مالیت 15 ارب 93 کروڑ روپے ہے، میں 38 فیصد کام مکمل ہوا مگر اس کے باوجود تقریباً 15 ارب روپے کی ادائیگی کر دی گئی۔

کمیٹی نے اس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب منصوبوں پر عملی پیش رفت 26 اور 38 فیصد تھی تو ٹھیکیداروں کو تقریباً 100 فیصد ادائیگیاں کیسے کر دی گئیں۔ حکام کمیٹی کو اس کی تسلی بخش وضاحت نہ دے سکے۔

سندھ حکومت کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ 3 ارب 60 کروڑ روپے کی 92 فیصد اضافی لاگت اور 3 ارب روپے بطور موبلائزیشن ایڈوانس بھی ادا کیے گئے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سست رفتار منصوبے کے باوجود ٹھیکیدار کو اضافی ادائیگیاں کرنا غیر معمولی اقدام ہے۔

کمیٹی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ ریڈ لائن منصوبے کے لاٹ ٹو کو 38 فیصد پیش رفت کے باوجود کیوں ختم کیا گیا جبکہ کم پیش رفت والے لاٹ ون پر کام جاری رکھا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے اقتصادی امور ڈویژن کو ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں متعلقہ ٹھیکیدار کو مکمل تفصیلات کے ساتھ طلب کیا جائے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے جاری ریڈ لائن منصوبہ شدید تاخیر اور لاگت میں اضافے کا شکار بھی رہا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبے کی ابتدائی لاگت 490 ملین ڈالر تھی، تاہم تقریباً دو سال کی تاخیر کے باعث اس میں 100 ملین ڈالر اضافہ ہو گیا۔ منصوبہ جو 2024 میں مکمل ہونا تھا اب دسمبر 2027 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

حکام کے مطابق لاگت میں اضافے کی وجوہات میں روپے کی قدر میں کمی، ڈیزائن میں تبدیلیاں اور بسوں کی تعداد میں ردوبدل شامل ہیں۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ ٹینڈرنگ کے عمل میں ڈیڑھ سال کی تاخیر ہوئی جبکہ نمائش چورنگی کے قریب کار شوروم مالکان کی شکایات کے باعث ڈیزائن تبدیل کرنا پڑا۔ یوٹیلیٹی شفٹنگ کے تقریباً 4 ارب روپے سندھ حکومت کی جانب سے بروقت ادا نہ کیے جانے کے باعث بھی منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ صرف 4 ارب روپے کی یوٹیلیٹی شفٹنگ لاگت کے باوجود منصوبے پر 100 ملین ڈالر کا اضافی بوجھ کیسے پڑ گیا۔ حکام نے بتایا کہ منصوبے پر 10.9 ملین ڈالر سودی اخراجات بھی آئے۔

کے بی آر ٹی یلو لائن منصوبہ بھی کمیٹی کی کڑی تنقید کی زد میں آیا۔ حکام نے بتایا کہ منصوبے کی ابتدائی لاگت 439 ملین ڈالر تھی جو بڑھ کر 620 ملین ڈالر ہو گئی، یوں 181 ملین ڈالر کا اضافی بوجھ پڑا۔ عالمی بینک کے تعاون سے جاری یہ منصوبہ داؤد چورنگی سے نمائش تک تقریباً 21 کلومیٹر پر مشتمل ہے۔

سندھ کے محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ نے لاگت میں اضافے کی وجوہات میں ڈیزائن تبدیلیاں، اضافی پل کی تعمیر اور ڈیزل ہائبرڈ بسوں کی جگہ الیکٹرک بسوں کی شمولیت کو ذمہ دار قرار دیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پیکیج فور میں 55 فیصد پیش رفت ہوئی جبکہ منصوبے کی تکمیل کی مدت 2028 تک بڑھا دی گئی ہے۔

جام صادق پل منصوبہ بھی سوالات کی زد میں آ گیا جہاں کمیٹی کو بتایا گیا کہ 12 ارب 50 کروڑ روپے کے منصوبے میں صرف 55 فیصد کام مکمل ہوا مگر ٹھیکیدار کو 99 فیصد ادائیگی کر دی گئی۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے دوبارہ زور دیا کہ سست رفتار منصوبوں میں ٹھیکیداروں کو غیر معمولی ادائیگیاں ناقابل قبول ہیں۔ کمیٹی نے اقتصادی امور ڈویژن کو ہدایت کی کہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو خط لکھ کر سست روی اور زائد ادائیگیوں میں ملوث حکام کے خلاف انکوائری اور کارروائی کی سفارش کی جائے۔

Copied From: Karachi Transit Payments Face Tough Scrutiny

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے