400 کلو چاندی غائب، سیسے سے تبدیل ہونے کا انکشاف، ایف بی آر مزید تحقیقات کی زد میں
2 ہزار دودھ کے تھیلوں میں سے 250 لاپتا، سینیٹ کمیٹی نے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی
ندیم تنولی
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ایک بار پھر شدید پارلیمانی نگرانی کی زد میں آ گیا ہے، جہاں ضبط شدہ سامان میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے سخت تشویش کا اظہار کیا۔ معاملات میں 400 کلوگرام چاندی کا دورانِ منتقلی غائب ہو کر سیسے سے تبدیل ہونا، 250 دودھ کے تھیلوں کا لاپتا ہونا، ایف بی آر تحویل میں موجود سامان کی مبینہ چوری و بدانتظامی، گوداموں میں آتشزدگی کے واقعات اور ارکانِ پارلیمنٹ کو مبینہ نوٹسز کا اجرا شامل ہے۔ کمیٹی نے ایف بی آر کو فوری تحقیقات، چاندی کی برآمدگی، ذمہ دار افراد کی نشاندہی اور تفصیلی رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سب سے زیادہ تشویشناک معاملہ بلوچستان میں مختلف کارروائیوں کے دوران کسٹمز حکام کی جانب سے ضبط کی گئی تقریباً 698 کلوگرام چاندی کا تھا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جب یہ کھیپ منتقل کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس میں صرف 298 کلوگرام چاندی موجود ہے جبکہ باقی 400 کلوگرام چاندی مبینہ طور پر سیسے سے تبدیل کر دی گئی تھی۔
کسٹمز حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ابتدائی طور پر یہ معاملہ اندرونی ملی بھگت یا “انسائیڈر جاب” معلوم ہوتا ہے، جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) پہلے ہی تحقیقات شروع کر چکا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ لاپتا چاندی کی فوری برآمدگی یقینی بنائی جائے، فائدہ اٹھانے والوں کی نشاندہی کی جائے اور جامع رپورٹ پیش کی جائے۔ معاملہ مزید تحقیقات کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کو بھی بھجوا دیا گیا۔
اجلاس میں کراچی کسٹمز انفورسمنٹ کی جانب سے ضبط کیے گئے 2 ہزار سکمڈ ملک بیگز کی ضبطگی اور نیلامی میں مبینہ بے ضابطگیوں پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ارکان کو بتایا گیا کہ اگرچہ 2 ہزار تھیلے ضبط کیے گئے تھے، تاہم ایف آئی آر میں صرف 1,750 تھیلوں کا اندراج کیا گیا، جبکہ 250 تھیلوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔
کسٹمز حکام نے موقف اختیار کیا کہ سامان جعلی اور ٹیمپرڈ گڈز ڈیکلریشن کی بنیاد پر ضبط کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قانون کے مطابق خراب ہونے والی اشیا کو فوری نیلام کیا جا سکتا ہے تاکہ نقصان سے بچا جا سکے، تاہم یہ معاملہ اس وقت کسٹمز عدالت میں زیر سماعت ہے۔ کمیٹی نے ایف بی آر کو ایک ہفتے کے اندر مکمل تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی ارکان نے ایف بی آر کی تحویل میں موجود ضبط شدہ سامان کی مبینہ چوری، ناقص انتظامات اور گوداموں میں آتشزدگی کے واقعات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ارکان نے سوال اٹھایا کہ آیا ضبط شدہ سامان کی مناسب رجسٹریشن، حفاظت، منتقلی اور تلفی سرکاری قواعد کے مطابق ہو رہی ہے یا نہیں۔
اجلاس کے دوران سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات نے 2 ہزار سکمڈ ملک بیگز اور لاپتا چاندی کے معاملات مزید تفصیلی تحقیقات کے لیے اپنی متعلقہ ذیلی کمیٹی کے سپرد کر دیے۔
کمیٹی میں ایف بی آر کی جانب سے ارکانِ پارلیمنٹ کو مبینہ طور پر بھیجے گئے نوٹسز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے ارکان کو ہدایت کی کہ ایسے تمام نوٹسز ان کے پاس جمع کرائے جائیں تاکہ یہ جائزہ لیا جا سکے کہ کہیں کسی رکن کے خلاف غیر ضروری یا نامناسب کارروائی تو نہیں کی گئی۔
اجلاس میں سرکاری افسران کے اثاثہ جات کے ڈیجیٹل اعلانات کے منصوبے پر بھی بات چیت ہوئی۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے سول سرونٹس کنڈکٹ رولز میں ترامیم کر دی ہیں اور ایف بی آر پلیٹ فارم کے ذریعے اثاثہ جات کے اعلانات کو ڈیجیٹل بنانے پر کام جاری ہے۔ حکام کے مطابق شفافیت کے فروغ کے لیے یہ اعلانات محدود معلومات کے ساتھ عوامی سطح پر دستیاب ہوں گے، جبکہ ذاتی رازداری کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے گا۔
Copied From: FBR faces probe after 400kg silver replaced with lead and 250 milk bags go missing

