پاکستان میں اسٹارلنک طرز انٹرنیٹ تاحال منظوری کا منتظر، پی ٹی اے لائسنس جاری کرنے کو تیار

4 Min Read
قومی قواعد کے مطابق سیٹلائٹ آپریٹرز کی رجسٹریشن اور نئے لائسنس کے بغیر براہِ راست سیٹلائٹ براڈبینڈ صارفین کے لیے ابھی دستیاب نہیں۔

پاکستان میں اسٹارلنک سروس فوری شروع نہ ہو سکی، سینیٹ کو ریگولیٹری رکاوٹوں پر بریفنگ

پاکستان میں اسٹارلنک طرز انٹرنیٹ تاحال منظوری کا منتظر، پی ٹی اے لائسنس جاری کرنے کو تیار

ندیم تنولی

اسلام آباد: سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ نئی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروسز تاحال پاکستانی صارفین کیلئے مکمل طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں کیونکہ سیٹلائٹ آپریٹرز کو پہلے پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ میں رجسٹریشن کرانا ہوگی۔ وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سیٹلائٹ کمپنیوں کو لائسنس اسی وقت جاری کرے گی جب وہ پی ایس اے آر بی میں رجسٹریشن مکمل کر لیں گی۔

یہ تفصیلات سینیٹر انوشہ رحمان احمد خان کے سوال کے جواب میں پیش کی گئیں، جنہوں نے سیٹلائٹ کے ذریعے فراہم کی جانے والی براڈ بینڈ کنیکٹیویٹی کی موجودہ صورتحال سے متعلق استفسار کیا تھا۔

اپنے تحریری جواب میں شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ موجودہ پی ٹی اے ریگولیٹری نظام کے تحت جیو اسٹیشنری آربٹ سیٹلائٹس کے ذریعے خدمات پہلے ہی سی وی اے ایس، ایل ایل اور ایل ڈی آئی لائسنس یافتہ اداروں کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہیں۔ تاہم یہ خدمات زیادہ تر بینڈ وڈتھ ٹرانسپورٹیشن، بیک ہال کنیکٹیویٹی اور محدود ڈیٹا سروسز تک محدود ہیں۔

وزارت کے مطابق جیو اسٹیشنری سیٹلائٹ بینڈ وڈتھ انتہائی مہنگی ہونے کے باعث عام صارفین کو کم قیمت انٹرنیٹ فراہم کرنا مشکل ہے۔ سینیٹ کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک بھر میں تقریباً 5 ہزار 43 صارفین مختلف پی ٹی اے لائسنس یافتہ کمپنیوں کے ذریعے سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی استعمال کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ موجود تو ہے مگر اس کا دائرہ محدود ہے۔

وزارت نے مزید بتایا کہ حالیہ برسوں میں لو ارتھ آربٹ سیٹلائٹس کے ذریعے نئی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی سامنے آئی ہے اور اسٹارلنک، ایمیزون کوئپر اور ون ویب جیسی بین الاقوامی کمپنیاں مختلف ممالک میں صارفین کو براہ راست تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کر رہی ہیں۔

حکومت نے مستقبل کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کیلئے نیشنل اسپیس پالیسی اور اسپیس ایکٹیویٹیز رولز متعارف کرائے ہیں، جن کے تحت ہر سیٹلائٹ آپریٹر کیلئے پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ میں رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ رجسٹریشن کے بعد ہی کمپنیوں کو پاکستان میں جیو اسٹیشنری یا لو ارتھ آربٹ سیٹلائٹ بینڈ وڈتھ فراہم کرنے کی اجازت مل سکے گی۔

سینیٹ کو بتایا گیا کہ پی ایس اے آر بی اس وقت سیٹلائٹ آپریٹرز کی رجسٹریشن سے متعلق قواعد و ضوابط کو حتمی شکل دے رہا ہے، جس کے باعث جدید سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیاں فوری طور پر صارفین کیلئے سروس شروع نہیں کر سکتیں۔

دوسری جانب پی ٹی اے نے براہ راست صارفین کو سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے کیلئے فکسڈ سیٹلائٹ سروسز لائسنس بھی تیار کر لیا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ لائسنس عالمی معیار کے مطابق بنایا گیا ہے اور اس سے ملک بھر میں ایک ہی لائسنس کے تحت سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنا آسان ہو جائے گا۔

حکومتی جواب سے واضح ہوا ہے کہ پاکستان اسٹارلنک طرز سیٹلائٹ براڈ بینڈ سروسز کیلئے قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک تیار کر رہا ہے، تاہم تجارتی بنیادوں پر سروس کے آغاز کا انحصار پی ایس اے آر بی رجسٹریشن اور پی ٹی اے لائسنسنگ کے مکمل ہونے پر ہوگا۔

Copied From: Starlink style satellite internet still awaiting approval in Pakistan

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے