سی ایس ایس پی آر کا “معرکۂ حق” کی پہلی سالگرہ پر اہم ویبینار، پاکستان کی اسٹریٹجک سمت پر غور
لاہور: یونیورسٹی آف لاہور کے سینٹر فار سکیورٹی، اسٹریٹجی اینڈ پالیسی ریسرچ (CSSPR) کے زیر اہتمام مئی 2025 کے تنازعے، جسے پاکستان میں “معرکۂ حق” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ایک اعلیٰ سطحی ویبینار منعقد کیا گیا۔ ویبینار کا عنوان تھا: “ڈیٹرنس سے ڈپلومیسی تک: پاکستان کی اسٹریٹجک ازسرِ نو تشکیل”۔
ویبینار کی نظامت ڈائریکٹر CSSPR ڈاکٹر رابعہ اختر نے کی، جبکہ ممتاز ماہرین میں سفیر اعزاز احمد چوہدری، ڈاکٹر عادل سلطان، ڈاکٹر ظفر نواز جسپال، ڈاکٹر ماریہ سلطان، ایئر کموڈور (ر) خالد بنوری، ڈاکٹر سلمیٰ ملک اور سید علی ضیاء جعفری شامل تھے۔ شرکاء نے اس تنازعے کے طویل المدتی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے دفاعی حکمت عملی، عسکری تیاری، سفارت کاری اور علاقائی استحکام پر تفصیلی گفتگو کی۔
ماہرین نے مئی 2025 کو پاکستان کی اسٹریٹجک پوزیشن میں ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بحران نے بھارت کی یکطرفہ برتری کے تصور کو چیلنج کیا اور خطے میں طاقت کے توازن کو بحال کیا۔ مقررین نے پاکستان کی روایتی عسکری صلاحیت، فضائی و الیکٹرانک جنگی نظام کے مؤثر انضمام اور مستقبل کی جنگوں میں مصنوعی ذہانت، ڈرونز، سائبر اور خلائی ٹیکنالوجی کی بڑھتی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
سفارتی محاذ پر گفتگو کرتے ہوئے شرکاء کا کہنا تھا کہ اس بحران کے بعد پاکستان زیادہ اعتماد اور علاقائی اہمیت کے ساتھ ابھرا ہے۔ مباحثے میں بدلتے علاقائی اتحاد، پاکستان کے بطور استحکام فراہم کرنے والے کردار اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کے خلاف بیانیہ مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ بھارت اپنی عسکری اور تکنیکی حکمت عملی کو مزید تیز رفتاری سے آگے بڑھا سکتا ہے، لہٰذا کسی بھی قسم کی خود اطمینانی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کی طویل المدتی کامیابیوں کا انحصار معاشی استحکام، ادارہ جاتی مضبوطی، تکنیکی جدت اور انسانی وسائل کی ترقی پر ہے۔
ویبینار کے اختتام پر اس امر پر زور دیا گیا کہ “معرکۂ حق” نے جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک تصورات کو نئی شکل دی ہے اور بدلتے ہوئے علاقائی سکیورٹی ماحول میں ذمہ دارانہ پالیسی سازی اور مستقبل بین تیاری ناگزیر ہے۔
