9 وفاقی ہاؤسنگ منصوبے برسوں بعد نامکمل

5 Min Read

ایف جی ای ایچ اے کے 9 رہائشی منصوبے تاحال نامکمل، کئی اسکیمیں تنازعات، عدالتی مقدمات اور تاخیر کا شکار

2005 سے شروع ہونے والی بعض ہاؤسنگ اسکیمیں بھی مکمل نہ ہو سکیں، الاٹیز غیر یقینی صورتحال سے دوچار

ندیم تنولی

اسلام آباد: سینیٹ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے تحت شروع کیے گئے 9 رہائشی اور اپارٹمنٹ منصوبے تاحال مکمل نہیں ہو سکے، جبکہ متعدد اسکیمیں عدالتی مقدمات، تنازعات، ری پلاننگ اور ترقیاتی کاموں میں تاخیر کے باعث رکی ہوئی ہیں، جس سے ہزاروں الاٹیز کو شدید مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

یہ تفصیلات سینیٹ کے سوال و جواب کے اجلاس میں وفاقی وزیر ہاؤسنگ و ورکس میاں ریاض حسین پیرزادہ نے سینیٹر محمد طلحہ محمود کے سوال کے جواب میں پیش کیں۔

سرکاری جواب کے مطابق زیر التوا منصوبوں میں گرین انکلیو ون، اسکائی گارڈن، ایف-14/15، مارگلہ آرچرڈز، کشمیر ایونیو اپارٹمنٹس، چکلالہ ہائٹس، اسکائی لائن اپارٹمنٹس، لائف اسٹائل ریزیڈنسی اپارٹمنٹس اور سب سیکٹر جی-14/1 شامل ہیں۔

سینیٹ کو بتایا گیا کہ اسلام آباد کے علاقے بھارہ کہو میں واقع گرین انکلیو ون منصوبہ جوائنٹ وینچر تنازع کے باعث تعطل کا شکار ہے۔ منصوبے کا معاہدہ 2009 میں ہوا جبکہ ترقیاتی کام 2019 میں شروع کیے گئے، تاہم اب تک صرف 54 فیصد پیش رفت ہو سکی ہے۔ حکام کے مطابق تعمیراتی کام دوبارہ شروع ہونے کے بعد منصوبہ مکمل ہونے میں مزید ڈیڑھ سال لگ سکتے ہیں۔

اسی طرح ایف-14/15 منصوبہ، جو 2015 میں شروع کیا گیا تھا، اس میں ترقیاتی کام فروری 2026 میں شروع ہوئے اور اب تک صرف 3.95 فیصد پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق منصوبہ 2029 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

سیکٹر جی-13 میں کشمیر ایونیو اپارٹمنٹس منصوبہ بھی عدالتی کارروائی کے باعث رکا ہوا ہے۔ سینیٹ کو بتایا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس زیر سماعت ہونے کے باعث کام تعطل کا شکار ہے جبکہ منصوبے پر اب تک صرف 16.27 فیصد پیش رفت ہوئی ہے۔

نئے اسلام آباد ایئرپورٹ کے قریب واقع اسکائی لائن اپارٹمنٹس منصوبہ بھی 2020 میں لانچ ہونے کے باوجود تعطل کا شکار ہے۔ حکام کے مطابق منصوبے کی ری پلاننگ جاری ہے جبکہ صرف 24 فیصد ترقیاتی کام مکمل ہوا ہے۔

جی-13 کے موو ایریا میں قائم لائف اسٹائل ریزیڈنسی اپارٹمنٹس منصوبہ، جو 2016 میں شروع کیا گیا تھا، اس پر صرف 30 فیصد پیش رفت ہوئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور دیگر منظوریوں سے مشروط ترقیاتی کام جولائی 2026 تک شروع کیے جا سکتے ہیں۔

سینیٹ کو بتایا گیا کہ سب سیکٹر جی-14/1 سب سے پرانی زیر التوا اسکیموں میں شامل ہے، جسے 2005 میں لانچ کیا گیا تھا، تاہم اس پر تاحال مکمل ترقیاتی کام شروع نہیں ہو سکے۔ حکام کے مطابق ٹینڈر اور تکنیکی منظوری مکمل کر لی گئی ہے جبکہ منصوبے کی تکمیل کام شروع ہونے کے بعد مزید اڑھائی سال میں متوقع ہے۔

دوسری جانب چکلالہ ہائٹس اپارٹمنٹس منصوبہ نسبتاً بہتر پیش رفت کرنے والے منصوبوں میں شامل ہے جہاں 55 فیصد سے زائد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے اور اس کی تکمیل 2027 میں متوقع ہے۔

سینیٹ ریکارڈ کے مطابق متعدد منصوبوں کی تکمیل کی تاریخیں واضح نہیں کیونکہ بیشتر اسکیموں کی مدتِ تکمیل “کام دوبارہ شروع ہونے” سے مشروط رکھی گئی ہے، جس کے باعث وفاقی ملازمین اور الاٹیز کو مزید انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

ارکانِ سینیٹ نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی منصوبے برسوں قبل شروع کیے گئے مگر ناقص منصوبہ بندی، سست رفتار عملدرآمد، انتظامی رکاوٹوں اور قانونی تنازعات کے باعث تاحال مکمل نہیں ہو سکے۔ معاملے نے ایک بار پھر وزارت ہاؤسنگ و ورکس اور ہاؤسنگ اتھارٹی کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

Copied: FGEHA Housing Projects Face Renewed Delays – Peak Point

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے