زمار شاہد کی نمائش قومی آرٹ گیلری میں

newsdesk
3 Min Read
قومی آرٹ گیلری اسلام آباد میں زمار شاہد کی نمائش؛ نفیس مصغر نگاری اور جدید تکنیکوں پر مبنی کام سات سے چودہ مئی تک نمائش کے لیے دستیاب ہوں گے

قومی کونسل برائے فنونِ لطیفہ کی گیلری نمبر چھ، قومی آرٹ گیلری اسلام آباد میں ایک نئے بصری فنکارانہ مظاہرے کا آغاز ہوا جس میں بڑی تعداد میں فنکاروں، طلبہ اور ثقافتی حلقوں نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب جمعرات سات مئی دو ہزار چھبیس کو شام چار بجے سے سات بجے تک منعقد ہوئی اور اس موقع پر وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت جناب اورنگزیب خان کھچی بطورِ مہمانِ خصوصی موجود تھے، جن کے ہمراہ محمد ایوب جمالی، ڈائریکٹر جنرل قومی کونسل برائے فنونِ لطیفہ بھی موجود تھے۔زمار شاہد کی پیش کردہ تصاویری مجموعہ نے شرکا کی توجہ اپنی فنی باریکی اور تخلیقی جہتوں کی بدولت حاصل کی۔ مہمانِ خصوصی نے نوجوان فنکارہ کے تخلیقی وژن اور فنی مہارت کی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ ادارے ایسے فنکاروں کو فروغ دینے اور نئی تخلیقی راہیں فراہم کرنے کے لیے مسلسل حمایت جاری رکھیں گے۔نمائش میں ایسے شاہکار پیش کیے گئے جن میں روایتی مصغر نگاری کے جمالیاتی اصول اور عصری تجرباتی انداز کا امتزاج نمایاں تھا۔ کاموں میں کینوس پر پھول نما تکنیک، پھاڑ اور آگ کے اثرات کے ذریعے بنائی گئی ترکیبی ساختیں اور پیچیدہ فنی تراکیب شامل ہیں۔ خاص طور پر سونے کے ورق سے تیار کردہ نفیس مصغر نگارانہ مناظر میں دنیا کی مختلف مساجد کی ظرافت اور دقیق کاریگری واضح طور پر محسوس ہوتی ہے، جو ثقافتی ورثے کے ساتھ گہرا تعلق ظاہر کرتی ہیں۔زمار شاہد بلوچستان سے تعلق رکھتی ہیں اور فائن آرٹس میں تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کے کام نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی ہے اور انہیں میمارِ وطن ایوارڈ کے علاوہ برٹش کونسل کی جانب سے فعال شہری سرٹیفکیٹ بھی دیا گیا ہے۔ انھوں نے اپنے فنی عمل کے ذریعے ثقافتی مکالمے کو فروغ دینے اور جوان خواتین کو فنون میں پیش قدمی کے لیے تحریک دینے کی کوشش جاری رکھی ہے۔افتتاحی تقریب میں فنکاروں اور ثقافتی برادری کے اراکین کی موجودگی میں زمار شاہد کے کام کی تکنیکی نزاکت اور موضوعی گہرائی پر گفتگو ہوئی۔ قومی کونسل برائے فنونِ لطیفہ نے بھی اعلان کیا کہ وہ ابھرتے ہوئے فنکاروں کے لیے ایسے مواقع فراہم کرنے کے سلسلے کو جاری رکھے گا تاکہ فن اور ثقافت کے شعبے میں جدت اور مکالمہ کو فروغ مل سکے۔نمائش عوام کے لیے سات مئی سے چودہ مئی دو ہزار چھبیس تک کھلی رہے گی اور روزانہ صبح دس سے شام چار بجے تک قابلِ دید ہوگی۔ شرکا اور زائرین نے اس مجموعے کو نوجوان فنکارہ کی تخلیقی صلاحیت اور ثقافتی وابستگی کی عکاسی قرار دیا، جس سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر گفتگو کی توقع پیدا ہوئی ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے