پاک ای پی اے اسکینڈل: مبینہ اقربا پروری اور درآمدی تاخیر سے پولٹری شعبے کو 80 کروڑ ڈالر سالانہ نقصان کا انکشاف

newsdesk
4 Min Read
سینیٹ میں بتایا گیا کہ پاک ماحولیاتی ادارے کی سابقہ سربراہ کے خلاف سفارش، ماحولیاتی جائزے میں اجارہ داری اور سویا مین درآمد میں تاخیر کے الزامات اٹھے۔

سینیٹ میں سابق ڈی جی پاک ای پی اے کے خلاف بدعنوانی، اجارہ داری اور سویا بین درآمدی لائسنس روکنے کے الزامات

اسلام آباد: سینیٹ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک ای پی اے) کی سابق ڈائریکر جنرل فرزانہ الطاف شاہ کے خلاف مبینہ بدعنوانی، مالی بے ضابطگیوں، اقربا پروری، اختیارات کے ناجائز استعمال اور انتظامی تاخیر سے متعلق چار شکایات سامنے آئیں، جن میں ماحولیاتی اثرات کے جائزہ (EIA) کے عمل میں مبینہ اجارہ داری قائم کرنے اور جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویا بین میل کی درآمدی منظوریوں میں تاخیر کے الزامات شامل ہیں۔ پولٹری صنعت نے دعویٰ کیا کہ ان تاخیری اقدامات سے شعبے کو سالانہ تقریباً 80 کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچا۔

یہ تفصیلات وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک نے سینیٹر محمد طلحہ محمود کے سوال کے تحریری جواب میں سینیٹ کے سامنے پیش کیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ سابق ڈی جی پاک ای پی اے کے خلاف اسلام آباد ایسوسی ایشن آف انوائرمنٹل کنسلٹنٹس، زبیر فیڈز پرائیویٹ لمیٹڈ، پائنیر فوڈز اور پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کی جانب سے شکایات موصول ہوئیں۔

اسلام آباد ایسوسی ایشن آف انوائرمنٹل کنسلٹنٹس نے الزام عائد کیا کہ ای آئی اے ڈائریکٹوریٹ میں مخصوص کنسلٹنٹس کو فائدہ پہنچانے کے لیے مبینہ طور پر اجارہ داری قائم کی گئی۔ شکایت کے مطابق بعض کنسلٹنٹس پاک ای پی اے کے احاطے میں قائم ایک مبینہ “انوائرمنٹل اکیڈمی” کے تحت کام کر رہے تھے جبکہ پراجیکٹس کی منظوری کے عمل میں مخصوص کنسلٹنٹس کی سفارش کی جاتی تھی۔

شکایت میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر پراجیکٹ مالکان اپنی پسند کے کنسلٹنٹس مقرر کرتے تو ان کے منصوبوں کی منظوری میں رکاوٹیں ڈالی جاتیں۔ ایسوسی ایشن نے الزام لگایا کہ اس عمل سے شفافیت متاثر ہوئی اور پیشہ ور ماحولیاتی کنسلٹنٹس کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔

دوسری جانب زبیر فیڈز پرائیویٹ لمیٹڈ نے وزیراعظم شکایات سیل میں درخواست دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویا بین میل کی درآمدی درخواست تمام تقاضے پورے کرنے کے باوجود جان بوجھ کر زیر التوا رکھی گئی۔ کمپنی کے مطابق سویا بین میل پولٹری فیڈ کا بنیادی جزو ہے اور اس کی درآمد میں رکاوٹ سے نہ صرف کمپنی بلکہ قومی غذائی تحفظ بھی متاثر ہوا۔

کمپنی نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 60 کمپنیوں کو جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویا بین بیج درآمد کرنے کی اجازت دی جا چکی تھی، تاہم ان کی درخواست کو مبینہ طور پر امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے بھی سویا بین میل درآمدی لائسنسوں میں تاخیر پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ قومی بایو سیفٹی کمیٹی اور وفاقی کابینہ سے منظور شدہ ہونے کے باوجود پاک ای پی اے رکاوٹیں کھڑی کرتا رہا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ان تاخیروں سے پولٹری صنعت کو سالانہ تقریباً 80 کروڑ ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

سرکاری جواب میں بتایا گیا کہ فرزانہ الطاف شاہ کو معطل کر کے ان کے خلاف انکوائری کی گئی، تاہم بعد ازاں انہیں الزامات سے بری قرار دے دیا گیا۔ بعد میں انہوں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی۔

معاملے نے پاک ای پی اے کے اندر شفافیت، احتساب، ماحولیاتی منظوریوں کے طریقہ کار اور درآمدی اجازت ناموں کے نظام پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

Copied From: Pak EPA Scandal: Alleged Favouritism, Import Delays Cost Poultry Sector $800m – Peak Point

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے