ترک تکنیکی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا اور سیلاب انتظام اور موسمیاتی لچک میں مزید تعاون کے مواقع تلاش کیے۔ دورے کا مقصد دونوں ممالک کے مابین تکنیکی مشاورت، فیلڈ جائزے اور ادارہ جاتی تبادلے کے ذریعے مستقبل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔وفد میں جمہوریہ ترکی کی وزارتِ ماحولیات، شہری امور اور ماحولیاتی تبدیلی، جنرل ڈائریکٹوریٹ برائے ریاستی آبی کام، ڈائریکٹوریٹ برائے آبی انتظام اور ترک تعاون و ہم آہنگی ایجنسی شامل تھے۔ وفد نے مقامی اداروں کے ساتھ متعدد اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور فنی مشاورتیں انجام دیں تاکہ پاکستان میں سیلاب انتظام کے نظام کو مضبوط بنانے کے عملی پہلوؤں پر بات ہو سکے۔ملاقاتوں میں وفاقی سیلاب کمیشن، محکمہ موسمیات پاکستان، قومی ادارہ برائے آفات، واپڈا اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے افسران نے شرکت کی۔ وزارت کی سیکرٹری محترمہ عائشہ حمیرا چودھری نے سینئر حکام کے ہمراہ شرکت کی اور بات چیت میں دونوں طرف کے تجربات، پالیسی آپشنز اور عملی اقدامات کا تبادلہ ہوا۔ اس موقع پر پانی، صفائی اور حفظانِ صحت، دریائی بیسن کے انتظام، گلیشیئرز اور برفانی تودوں کے انتظام، صحرا زدگی اور کٹاؤ کنٹرول، ماحولیاتی طور پر لچکدار بنیادی ڈھانچے اور ابتدائی انتباہی و آبی موسمیاتی مشاہداتی نظام پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔دونوں فریقوں نے صفر فضلہ کے اقدامات، اداری صلاحیت سازی، فنی تربیتی پروگرامز اور موسمیاتی موافقت و آفات سے مزاحمت پر مشترکہ تحقیقی و ترقیاتی منصوبوں کے امکانات بھی زیرِ غور لائے۔ تکنیکی ماہرین نے مشترکہ تربیت، ڈیٹا شیئرنگ اور کمونٹی مبنی لچک کے طریق کار پر بات چیت کی تاکہ سیلاب انتظام کے عمل میں مقامی سطح کی شمولیت کو مضبوط کیا جا سکے۔وفد نے اسلام آباد، خیبر پختونخوا اور لاہور میں ٹیلے میٹری پر مبنی آبی موسمیاتی اسٹیشنز، سیلاب متاثرہ ندی نالوں اور عملی پیش گوئی مراکز کے فیلڈ دورے بھی کیے۔ دوروں کے دوران ماہرین نے مربوط سیلاب پیش گوئی نظام، اعداد و شمار پر مبنی خطرے کی نگرانی، تلچھٹ اور کٹاؤ کے کنٹرول اور عوامی سطح پر مزاحمت کے طریقوں پر تبادلۂ خیالات کیا۔یہ دورہ ترکی اور پاکستان کے درمیان دیرینہ بھائی چارے اور موسمیاتی تبدیلی، انتہاٸی موسمی واقعات اور آفات کے خطرات کے خلاف مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ آگے بڑھ کر مشترکہ لائحہ عمل اور تکنیکی تعاون کے ذریعے دونوں ممالک سیلاب انتظام اور موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے کے عملی راستے تلاش کریں گے۔
