احسن اقبال نے اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف آرکیٹیکٹس پاکستان کی کانونشن اور نمائش دو ہزار چھبیس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فن تعمیر ایک قوم کی شناخت کی دیرپا علامت ہے۔انہوں نے بتایا کہ سلطنتیں ختم ہو جاتی ہیں مگر الحمرا، بادشاہی مسجد اور تاج محل جیسے علامات تہذیبوں کی نمائندگی کرتے رہتے ہیں اور یہی فن تعمیر کی قوت ہے جو تاریخ کے ساتھ رابطہ قائم رکھتی ہے۔وزیر نے واضح کیا کہ فن تعمیر محض عمارتیں نہیں بلکہ طرزِ زندگی، شہری کردار اور سماجی ماحول کو تشکیل دیتا ہے۔ انہوں نے انسانی مرکزیت، قابلِ رسائی اور کارآمد ڈیزائن پر زور دیا اور کہا کہ اس سے لوگوں کے رہن سہن کا معیار بہتر ہوگا، یہی وجہ ہے کہ فن تعمیر کو منصوبہ بندی کا مرکز قرار دیا جانا چاہیے۔احسن اقبال نے ورثے کی حفاظت کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا اور کراچی کی پیلے پتھر والی عمارتوں کی مدھم پڑتی ہوئی رونق کی مثال دی، انہوں نے کہا کہ جدید رجحانات کو مقامی ثقافت کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے تاکہ تاریخی حوالہ محفوظ رہے اور شہروں کی شناخت برقرار رہے۔وزیر نے ماحول دوست تعمیرات کی اہمیت بھی اجاگر کی اور حکومت کی جانب سے رہن کے ذریعے مالی معاونت کے ذریعہ کم خرچ رہائش فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ معیار اور جدت لانے کے لیے معماروں اور تعمیراتی کمپنیوں کے درمیان مضبوط تعاون لازمی ہے تاکہ فن تعمیر کے شعبے میں جدید اور پائیدار حل سامنے آئیں۔نمائش کے دوران احسن اقبال نے اسٹالز کا دورہ کیا اور مقامی مصنوعات کے فروغ اور برآمدات کے بڑھنے کے سلسلے میں حکومت کی حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے فن تعمیر کی حوصلہ افزائی اور مقامی صلاحیتوں کو اُبھارنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہی راستہ شہروں کی بہتر شناخت اور معاشی ترقی میں معاون ہوگا۔
